تل ابیب/یروشلم، 12 نومبر (ہ س)۔ غزہ پر جنگ کے 37ویں دن اتوار کی صبح اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے لبنان اور شام میں جنگجو گروہ حزب اللہ کے ٹھکانوں پر حملہ کیا۔ اسرائیل نے یہ کارروائی حالیہ حملوں کے جواب میں کی ہے۔ اس کے جنگی طیاروں نے لبنان میں حزب اللہ کے تمام جنگجووں کے بنیادی ڈھانچے اور چوکیوں کو تباہ کر دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس کے بعد حزب اللہ کے جنگجووں نے لبنان سے شمالی اسرائیل کی جانب کئی راکٹ فائر کئے۔ جواب میں اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے جنگجووں کے سیل اور لانچ پیڈ پر حملہ کیا۔ اس کے علاوہ گولان کی پہاڑیوں کے علاقے کی جانب حملے کے جواب میں اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے شام میں جنگجووں کے بنیادی ڈھانچے پر تابڑتوڑ حملہ کیا ہے۔ گولان ہائیٹس کی چوٹیوں سے جنوبی شام اور شام کا دارالحکومت دمشق صاف نظر آتے ہیں۔ یہ دونوں علاقے یہاں سے تقریباً 60 کلومیٹر کے فاصلے پر ہیں۔ گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل نے 1948 سے 1967 تک قبضہ کر رکھا تھا۔
ایک اور رپورٹ کے مطابق اسرائیلی جنگی طیاروں نے جنوبی لبنان کے شہر مروہین پر دو میزائل داغ کر حملہ کیا ہے۔ اس کے بعد نشانہ بنائے گئے علاقے سے کالے دھوئیں کا ایک گہرا بادل اٹھا۔ اسرائیلی فوج کے جاسوس طیارے اب بھی لبنان کی فضائی حدود میں پرواز کر رہے ہیں۔ اسرائیلی توپ خانے نے جنوب مغربی لبنان کے سرحدی قصبوں مروہین اور بلیدہ کے مضافات میں 45 گولے داغے۔ قابل ذکر ہے کہ لبنان اور شام کے جنگجو گروہ حماس کی حمایت میں کھل کر سامنے آگئے ہیں۔
شام میں سرگرم جنگجو تنظیم آئی ایس آئی ایس کو داعش، اسلامک اسٹیٹ آف عراق اینڈ دی لیونٹ یا اسلامک اسٹیٹ آف عراق اینڈ سیریا کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اسے دنیا کی سب سے خوفناک اور امیر ترین جنگجو تنظیم سمجھا جاتا ہے۔ اس کا بجٹ دو ارب ڈالر بتایا جاتا ہے۔
دریں اثناء اسرائیل نے واضح کیا ہے کہ اس کی افواج غزہ کے ہسپتال کے عملے کے ساتھ مل کر شفا ہسپتال سے جنوب کی طرف غزہ کے شہریوں کو محفوظ راستہ فراہم کر رہی ہیں۔ لیکن حماس اس میں رکاوٹ بن رہی ہے۔ وہ شہریوں کو باہر جانے سے روک رہا ہے۔ انہیں مار رہا ہے۔
ہندوستھان سماچار/
