رام اللہ،10اگست(ہ س)۔فلسطین نے اسرائیل کی طرف سے غزہ پر دوبارہ قبضہ کرنے کی کوشش کی مذمت کی ہے۔ تل ابیب نے غزہ شہر پر کنٹرول کا اعلان کیا ہے۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی وفا کے مطابق فلسطینی صدارتی ترجمان نبیل ابو ردینہ نے کہا ہے اسرائیلی پالیسیاں، جن کی نمائندگی غزہ پر دوبارہ قبضہ، مغربی کنارے کو الحاق کرنے کی کوششوں اور القدس کو یہودیانے سے ہو رہا ہے، خطے اور دنیا میں سلامتی اور استحکام کے حصول کے تمام دروازے بند کر دیں گی۔انہوں نے کہا اسرائیل کی جانب سے اپنی پالیسیوں پر بین الاقوامی تنقید کو مسترد کرنا اور فلسطینی عوام کے خلاف جنگ کو وسعت دینا دنیا بھر کے ممالک کی طرف سے جاری کردہ انتباہات کے لیے ایک بے مثال چیلنج ہے۔ اسرائیل کا مقصد بین الاقوامی قانونی قراردادوں اور بین الاقوامی قانون کے مطابق خطے میں امن و استحکام کے حصول کے بین الاقوامی عزم کو توڑنا ہے۔ ابو ودینہ کا یہ بیان اس دن سامنے آیا ہے جب سکیورٹی کابینہ نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی جانب سے 22 ماہ کی جنگ کے بعد غزہ کی پٹی کے شمالی حصے میں واقع غزہ سٹی کا کنٹرول سنبھالنے کی تجویز کی منظوری دی تھی۔ اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے تصدیق کی ہے کہ منصوبے کے اہداف میں غزہ کی پٹی پر اسرائیلی سکیورٹی کنٹرول مسلط کرنا اور ایک ایسی متبادل سول انتظامیہ کا قیام شامل ہے جو حماس یا فلسطینی اتھارٹی کے ماتحت نہ ہو۔اسرائیل کے اس منصوبے پر بین الاقوامی سطح پر بڑے پیمانے پر تنقید کی گئی اور اسے مسترد کر دیا گیا ہے تاہم اسرائیل نے اس کے باوجود اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ نتن یاہو نے ” ایکس “ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ہم غزہ پر قبضہ نہیں کریں گے لیکن ہم اسے حماس سے آزاد کرائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پٹی کو غیر فوجی بنانا اور پرامن سول انتظامیہ کے سپرد کرنے سے ہمارے یرغمالیوں کو آزاد کرنے میں مدد ملے گی۔ اس سے مستقبل کے کسی بھی خطرے کو روکنے میں بھی مدد ملے گی۔
دوسری جانب ابو ردینہ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ غزہ کی پٹی القدس اور مغربی کنارے کی طرح فلسطینی ریاست کا اٹوٹ انگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قیادت میں بین الاقوامی برادری کو قابض ریاست کو اپنی جارحیت بند کرنے، امداد میں داخلے کی اجازت دینے اور فلسطین کی ریاست کو غزہ کی پٹی میں اپنی مکمل ذمہ داریاں سنبھالنے کے قابل بنانے کے لیے سنجیدگی سے کام کرنا چاہیے۔واضح رہے اٹلی، آسٹریلیا، جرمنی، نیوزی لینڈ اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ نے غزہ کی پٹی میں اپنی کارروائیوں کو بڑھانے کے اسرائیلی حکومت کے فیصلے کو سختی سے مسترد کردیا ہے۔ ایک مشترکہ بیان میں وزراءنے کہا کہ یہ فیصلہ تباہ کن انسانی صورتحال کو مزید بڑھا دے گا۔ یرغمالیوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالے گا اور عام شہریوں کے بڑے پیمانے پر نقل مکانی کے امکانات کو بڑھا دے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بستیوں کے الحاق یا توسیع کی کوئی بھی کوشش بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan
