ممبئی کے انتہائی پوش اندھیری ویسٹ علاقے میں بھارت کا پہلا رائٹرس روم کھولا گیا ہے جسے امت خان نے ‘کنٹینٹ ہیڈ کوارٹر’ کا نام دیا ہے۔ اس ‘کنٹینٹ ہیڈ کوارٹر’ کے افتتاح میں ہندی فلم انڈسٹری کی کئی مشہور شخصیات نے شرکت کی، جن میں مشہور پروڈیوسر-ڈائریکٹر کیتن منموہن دیسائی، مشہور رائٹر-ڈائریکٹر رومی جعفری، مشہور میوزک کمپوزر رام شنکر، پین اسٹوڈیو سے پروڈیوسر کشال گڈا، ہندی فلموں سے تعلق رکھنے والے پروڈیوسر ، مشہور نقاد گریش وانکھیڑے، مشہور فلم اور تھیٹر نقاد اور مصنف اجیت رائے اور بہت سی دیگر نامور شخصیات شامل ہیں۔
‘کنٹینٹ ہیڈ کوارٹر’ کے بارے میں امیت خان نے کہا، ‘دراصل ہالی ووڈ میں رائٹرز روم کا ایک نمونہ ہے۔ بالی ووڈ میں بھی، کچھ بڑے پروڈیوسر ڈائریکٹر ماہانہ بنیادوں پر رائٹرز کی خدمات حاصل کرتے تھے، لیکن یہ رائٹرز روم سے زیادہ رائٹرز کی عدالت کی طرح تھا۔ اس عدالت میں صرف انہیں رائٹرس کو جگہ ملتی تھی جو پروڈیوسر ڈائریکٹر کے ‘یس مین ‘ تھے۔ اسے اپنے نقطہ نظر سے کہانیاں تخلیق کرنے کی آزادی نہیں تھی۔ ایسے درباروں میں کہانی کے تصورات سے لے کر مناظر کو حتمی شکل دینے تک کے تمام حقوق صرف پروڈیوسر ڈائریکٹر کے پاس تھے۔
انہوں نے کہا، کئی بار ایسے پروڈیوسر ڈائریکٹر کا نام بھی رائٹرکے کریڈٹ میں شامل کیا جاتا ہے۔ یہ ہندی فلم انڈسٹری کی بدقسمتی رہی ہے کہ آج تک ادیبوں کی ایسے دربار چل رہے ہیں۔ میرا ہمیشہ سے یہ خواب تھا کہ ادیبوں کے لیے اپنے کمرے ہوں، جہاں وہ اپنے ساتھی مصنفین کے ساتھ پوری آزادی کے ساتھ کہانیاں تخلیق کرسکیں۔ ان پر کسی پروڈیوسر ڈائریکٹر کی طرف سے کوئی دباو¿ نہیں ہونا چاہیے۔ میں نے اس خیال کو ‘کنٹینٹ ہیڈ کوارٹرز’ کی شکل میں محسوس کیا ہے، جہاں میں دوسرے بہت سے مصنفین کے ساتھ مل کر مختلف انواع کے اسکرپٹس بنانا چاہتا ہوں۔ اسی لیے اسے ‘کونٹینٹ ہیڈ کوارٹر’ کا نام بھی دیا گیا ہے، جہاں بڑی تعداد میں ‘مواد’ تیار کیا جا سکتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
