ضلع رکسول، جو نیپال سرحد کے قریب واقع ہے، نے بھارت مخالف سرگرمیوں اور نقلی نوٹوں کی اسمگلنگ کے لیے ایک محفوظ زون کا کردار ادا کیا ہے۔ اس علاقے میں پاکستان اور بنگلہ دیش سے آنے والی نقلی نوٹوں کی بڑی مقدار کا انتظام کیا جاتا ہے، لیکن مقامی ایس پی کانتیش کمار مشرا اور ایس ایس بی افسران کی بہتر کارکردگی کی بدولت ان سازشوں کو ناکام بنایا جا رہا ہے۔
BulletsIn
- سیف زون کی حیثیت: رکسول ضلع نیپال سرحد کے قریب نقلی نوٹوں اور بھارت مخالف سرگرمیوں کے لیے سیف زون بن گیا ہے۔
- اسمگلنگ کا طریقہ: پاکستان کی آئی ایس آئی کے ایجنٹ نقلی نوٹوں کی کھیپ نیپال بھیجتے ہیں، جو بعد میں بھارتی سرحدی شہروں میں اسمگل کی جاتی ہے۔
- نقلی نوٹوں کی چھپائی: نقلی نوٹوں کی چھپائی پاکستان میں ہوتی ہے اور یہ نیپال پہنچ کر وہاں اصلی نوٹ کے بدلے میں فروخت کیے جاتے ہیں۔
- پکڑ دھکڑ کی مثالیں: اگست 2023 میں رکسول سرحد سے نیپالی شہری اسلم انصاری عرف گلٹن گرفتار ہوا، جس کے بعد 22 جولائی 2024 کو رکسول کے اصغیر علی اور شیوہر کے رام پرویش کو نقلی نوٹوں کے ساتھ دہلی میں پکڑا گیا۔
- پچھلے واقعات: 2018 میں رکسول سے اتر پردیش کے رام بابو کیشرواری کو نقلی نوٹوں کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا۔
- ہر سال کی گرفتاری: مشرقی چمپارن ضلع میں ہر سال نقلی نوٹوں کی کھیپ پکڑی جاتی ہے، جس سے اسمگلنگ کی سرگرمیوں کا پتہ چلتا ہے۔
- حال کی گرفتاری: حال ہی میں بھاگلپور کے صدام کو رکسول سے گرفتار کیا گیا، جو جموں و کشمیر میں انتخابی مہم کے دوران نقلی نوٹوں کی بڑی کھیپ پہنچانے والا تھا۔
- ملٹری انٹیلی جنس کا کردار: صدام کی گرفتاری میں ملٹری انٹیلی جنس اور آئی بی کے انپٹ نے اہم کردار ادا کیا۔
