لاتیہار پولیس نے انسانی اسمگلنگ کا شکار ہوئی 16 لڑکیوں کو رہا کر ایا، 7 ملزمان گرفتار
لاتیہار، 19 اکتوبر (ہ س)۔ پولیس نے ایک بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے انسانی اسمگلنگ کا شکار ہوئی 16 لڑکیوں کو رہا کرا دیا ہے۔ اس دوران پولیس نے ایک لڑکے کو بھی رہا کرایا ہے۔ بازیاب ہونے والی لڑکیوں میں سے 12 لاتیہار ضلع کے مہواڈانڈ تھانہ علاقے کی رہائشی ہیں جبکہ چار لڑکیاں چھتیس گڑھ کی رہائشی ہیں۔ دہلی سمیت بڑے شہروں میں چھاپے مار کر لڑکیوں کو آزاد کرایا گیا ہے۔ پولیس نے انسانی اسمگلنگ کے کاروبار میں ملوث ملزم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔
لاتیہار کے ایس پی انجنی انجن نے جمعرات کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ لڑکیوں کی اسمگلنگ کی اطلاع ملنے کے بعد ایک پولیس ٹیم تشکیل دی گئی۔ ٹیم نے سخت محنت کی اور مختلف بڑے شہروں میں چھاپے مار کر 16 لڑکیوں کو بحفاظت بازیاب کرایا۔ انہوں نے کہا کہ چھاپے جاری رہیں گے۔ امکان ہے کہ جلد ہی دیگر لڑکیوں کو بھی بحفاظت رہا کرا کر انہیں ان کے گھروں کو روانہ کر دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ کچھ لڑکیوں کے ساتھ جنسی استحصال کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ پولیس اس کے خلاف سخت کارروائی کر رہی ہے۔ ایس پی نے بتایا کہ انسانی اسمگلنگ کے ملزم گوپی چند مہتو (گملا)، انیما نگیسیا، شیلیندر نگیشیا، منوج پرساد، سندیپ کمار (تمام لاتیہار)، وکاس نگیسیا (چائیباسا) اور سنیتا منڈا (دہلی) کو گرفتار کیا گیا ہے۔
ایس پی نے بتایا کہ پولیس انسپکٹر چندر شیکھر چودھری، سب انسپکٹر سمیت یادو، آشوتوش یادو، محمد ظفر عالم، اجے کمار داس، راہل کمار مہتا، دلیپ کمار داس، پولیس اہلکار شری کانت کمار، پنکج کمار، موگی سورین، گودلیوا کجور وغیرہ کا لڑکیوں کو آزاد کرانے میں اہم کردار تھا۔
ہندوستھان سماچار
/شہزاد
