دھنباد، 30 نومبر (ہ س)۔ بدنام زمانہ پرنس خان کےگرگے ‘میجر’ کی دھمکی اب صرف دھنباد کے بڑے تاجروں تک ہی محدود نہیں رہی بلکہ اس کے نام سے تاوان مانگنے اور نہ دینے پر کھوپڑی کھول دینے کی دھمکی اب عام سیلز مین تک پہنچ رہی ہے۔ تازہ معاملہ بھولی تھانہ علاقہ کا ہے۔ یہاں شراب کی دکان کے اہلکاروں کی جانب سے میجر کے نام پر 20 لاکھ روپے کی رنگداری جلد سے جلد پہنچانے کا واٹس ایپ پیغام آیا ہے۔ بصورت دیگر اسے جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی ہے۔
بتایا جا رہا ہے کہ بھولی کے سی بلاک کے رہنے والے نیرج سنہا جو تیتولماری میں شراب کی دکان میں سیلز مین کے طور پر کام کرتا ہے، اس کے موبائل فون کے واٹس ایپ پر مسلسل میجر کے نام سے تاوان کی دھمکی آمیز پیغامات آرہے ہیں۔ میسج میں لکھا ہے کہ ‘جلد سے جلد 20 لاکھ روپے نقد پہنچا دو، ورنہ تمہاری کھوپڑی کھول دیں گے، جس طرح بینک موڑکے دیپک اگروال کوٹھیک کیا گیا، وہی انجام تمہارا بھی ہوگا‘۔ اس طرح کے پیغام سے نیرج اور اس کاپورا خاندان خوفزدہ ہے۔
نیرج کا تعلق ایک لوئر مڈل کلاس گھرانے سے ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنی پوری جائیداد بیچ کر اتنی بڑی رقم اکٹھا نہیں کر سکیں گے۔ فی الحال انہوں نے او پی پولیس بھولی کو تحریری اطلاع دی ہے۔ بھولی پولیس نے بتایا کہ مقدمہ درج کرکے تفتیش کی جارہی ہے۔
ہندوستھان سماچار
