پٹنہ، 14 جنوری(ہ س)۔
بہار کے جہان آباد کے دیپا اسپتال میں اس وقت افراتفری مچ گئی جب ایک حاملہ خاتون کی علاج کے دوران موت ہوگئی۔ بتایا جاتا ہے کہ ارول ضلع کے کنجر تھانہ علاقہ کے سلیم پور عمری بیگھہ رہائشی رنجن یادو نے اپنی اہلیہ شلپی دیوی کو ڈلیوری کے لیے اسپتال میں داخل کرایا تھا۔ لواحقین نے اسپتال انتظامیہ پرلاپرائی کا الزام لگایا ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ دن بھر خاتون کا علاج جاری رہا لیکن رات کو اچانک مریضہ کی طبیعت خراب ہو گئی۔ پھر ڈاکٹر نے اسے پٹنہ لے جانے کا مشورہ دینا شروع کر دیا ، جب گھر والوں نے رات کو پٹنہ لے جانے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد کلینک کے عملے نے ایمبولینس بلائی اور اسے زبردستی پٹنہ بھیج دیا ، لیکن تب تک خاتون کی موت ہوچکی تھی۔
دوسری جانب لواحقین کو موت کی اطلاع ملتے ہی ڈاکٹر پر لاپروائی کا الزام لگاتے ہوئے اسپتال میں ہنگامہ کرنے لگا۔ ہنگامہ دیکھ کر کلینک کا تمام عملہ کلینک چھوڑ کر فرارہوگیا ، اس کی اطلاع ٹاؤ ن تھانہ کی پولیس کو دی گئی۔ ٹاؤ ن تھانہ انچارج نکھل کمار نے موقع پر پہنچ کر لوگوں کو سمجھا کر معاملہ کوپر سکون کر ایا۔
متوفی خاتون کے شوہر رنجن کمار کا کہنا ہے کہ میری اہلیہ کی ڈلیوری ہونی تھی۔ جب ہم اسے دن میں لے کر آئے تو عملے نے ہمیں کلینک میں داخل کرایا اور رات کو اچانک وہ ہمیں پٹنہ لے جانے کی باتیں کرنے لگے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ڈاکٹر نے ان کی اہلیہ کا صحیح علاج نہیں کیا جس کی وجہ سے ان کی اہلیہ کی موت ہوگئی۔ رنجن کمار نے ڈاکٹر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
ہندوستھان سماچار/ افضل
/عطاءاللہ
