نئی دہلی، 12 دسمبر (ہ س)۔ دہلی پولیس کی کرائم برانچ کی ٹیم نے ایک انٹر اسٹیٹ گینگ کا پردہ فاش کرتے ہوئے آنند وہار اسٹیشن کے قریب لوٹ کی بڑی واردات کو حل کرنے کا دعویٰ کیا ہے ۔ اس معاملے میں کرائم برانچ نے نصف درجن بدمعاشوں کو گرفتار کیا ہے۔
بدمعاشوں نے آنند وہار ریلوے اسٹیشن کے قریب ایک بزرگ جوڑے سے لاکھوں کی لوٹ مار کی تھی۔ پولیس ٹیم نے ان کے پاس سے 31.46 لاکھ روپئے نقد اور جرم میں استعمال ہونے والے دونوں آٹو برآمد کر لئے ہیں۔ کرائم برانچ کی ٹیم نے بہار کی راجدھانی پٹنہ، اتر پردیش کے بجنور اور دہلی میں چھاپے مار کر ان مجرموں کو گرفتار کیا ہے۔ ان میں سے ایک ماسٹر مائنڈ شمیم، دہلی پولیس کا اعلان کردہ ہسٹری شیٹربھی ہے۔
پولیس کے مطابق گرفتار مجرموں کی شناخت محمد شہزاد، شاہد عرف کلوا، جمال عرف پھگن، ارشد، للیتا پرساد اور شمیم کے نام سے ہوئی ہے۔ ان میں سے پانچ اتر پردیش کے بجنور اور ایک دہلی کے جامعہ نگر علاقے کے رہنے والے ہیں۔ ان میں سے شہزاد 6 کیسوں میں، شاہد ایک کیس میں، جمال دو کیسوں میں، ارشد آنند وہار ڈکیتی کیس میں، للتا ایک کیس میں اور شمیم سات معاملوں میں ملوث ہے۔
پولیس کے مطابق، اس گینگ کا پردہ فاش اے سی پی روہتاش کمار، انسپکٹر آشیش شرما، سب انسپکٹر پرکاش، دیویندر، کرائم برانچ کے ایسٹرن رینج-1 کے اسسٹنٹ سب انسپکٹر سندیپ نے ڈی سی پی ستیش کمار کی نگرانی میں کیا ہے۔
پولیس کے مطابق 28 نومبر کو بزرگ جوڑے کے ساتھ لوٹ مار کا واقعہ پیش آیا تھا۔ غازی پور کے رہنے والے اس شخص نے پولیس کو بتایا کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ آنند وہار ریلوے اسٹیشن پر اترا تھا۔ اسے وہاں کی ایک دکان سے زیورات خریدنے چاندنی چوک جانا تھا۔ ریلوے سٹیشن سے باہر آ کر ہم نے ایک آٹو لیا۔
اس کے پاس دو تھیلے تھے جن میں سے ایک میں 50 لاکھ روپے نقد تھے۔ اس دوران کچھ دور جانے کے بعد آٹو ڈرائیور نے یہ کہہ کر بہانہ بنایا کہ اس کے آٹو میں کچھ خرابی ہے۔ اس دوران ایک اور آٹو بھی وہاں پہنچا اور اس کے قریب پہنچا جس میں پہلے سے دو مسافر سوار تھے۔ جس پر متاثرہ نے اس میں بیٹھنے سے انکار کر دیا۔
اس دوران موقع دیکھ کر آٹو ڈرائیوروں نے ان کے سامان کو زبردستی دوسرے بیگ میں رکھ لیا اور وہیں ڈرا دھمکا کر لوٹ کو انجام دیا۔ متاثرہ کی شکایت پر مقدمہ درج کر لیا گیا۔ اور پولیس ٹیم نے تفتیش شروع کر دی۔ اس کیس کی تحقیقات کرنے والی ایسٹرن رینج کرائم برانچ کی ٹیم نے بھی سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے تفتیش شروع کی اور پھر آٹو کا سراغ لگایا۔
آٹو کا نمبر ملا جو دہلی کے جگدمبا وہار کے رہنے والے مہاویر سنگھ کے نام پر رجسٹرڈ تھا۔ پھر موبائل نمبر ملا اور اس کے نمبر کی نگرانی پر پتہ چلا کہ بجنور، اتر پردیش کا ایک گینگ اس میں ملوث ہے۔ اس کے بعد پولیس ٹیم نے دوبارہ اتر پردیش کے بجنور میں چھاپہ مارا تو پتہ چلا کہ یہ سبھی وہاں سے فرار ہو گئے ہیں۔ جن میں سے ایک شخص بہار کے پٹنہ پہنچ گیا تھا۔
پولیس ٹیم نے وہاں پہنچ کر چھاپہ مارا جس میں پولیس کو کامیابی ملی۔ پھر جب اس سے پوچھ گچھ کی گئی تو تمام 23 لاکھ روپے برآمد ہوئے اور جب اس سے پوچھ گچھ کی گئی تو للیتا پرساد کو اتر پردیش کے بجنور سے پکڑا گیا اور پھر اس کی نشاندہی پر اس کا ایک اور ساتھی شمیم دہلی کے اوکھلا سے پکڑا گیا اور اس کے قریب سے آٹو اور تقریباً آٹھ لاکھ روپے برآمد ہوئے۔ ان لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ اس طرح کی کئی وارداتوں کو انجام دے چکے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
