نئی دہلی، 24 نومبر (ہ س)۔
سپریم کورٹ نے اڈانی۔ ہنڈن برگ کیس کی تحقیقات پر اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی سربراہی والی بنچ نے تمام فریقین کو 27 نومبر تک تحریری دلائل پیش کرنے کی ہدایت دی۔
سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل پرشانت بھوشن نے اڈانی کے حصص میں سرمایہ کاری کی تحقیقات کا مطالبہ کیا اور کہا کہ یہ بھی دیکھا جائے کہ فائدہ کس کو ملا۔ سیبی نے کہا کہ اس نے ہر پہلو کی جانچ کی ہے۔ سیبی کی جانب سے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ اب وہ تحقیقات کے لئے وقت بڑھانے کا مطالبہ نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ 24 میں سے 22 مقدموں کی تفتیش مکمل ہو چکی ہے۔ اب فیصلہ ہونا باقی ہے، اگرچہ کچھ معلومات آنا باقی ہیں۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے مہتا سے پوچھا کہ حکومت سرمایہ کاروں کو ہونے والے نقصانات کے بارے میں کیا کر رہی ہے اور سیبی سرمایہ کاروں کے مفادات کے تحفظ کے لئے کیا کر رہی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کوئی شاٹ سیلنگ ہوئی ہے تو ضابطہ کے مطابق کارروائی ہوگی۔ سرمایہ کاروں کے مفادات کا تحفظ کیا جائے۔ اس پر مہتا نے بھی ان مسائل کا خیال رکھنے کا یقین دلایا۔ مہتا نے عدالت کو بتایا کہ وہ ریگولیٹری فریم ورک پر ماہر کمیٹی کی تجاویز کو ذہن میں رکھتے ہوئے کام کر رہے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ ایک عرضی گزار نے سیبی پر الزام لگایا ہے کہ وہ اڈانی کے ذریعہ اسٹاک مارکیٹ میں ہیرا پھیری سے متعلق ڈی آر آئی کے 2014 کے الرٹ کو چھپا رہا ہے۔
19 مئی کو اڈانی-ہنڈن برگ کیس میں تشکیل دی گئی ماہرین کی کمیٹی نے سپریم کورٹ میں اپنی رپورٹ پیش کی تھی۔ جسٹس ابھے منوہر سپرے کی سربراہی والی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ سیبی کی طرف سے پیش کی گئی صفائی اور اب تک دستیاب اعداد و شمار کی بنیاد پر کمیٹی کے لئے اس نتیجے پر پہنچنا ممکن نہیں ہوگا کہ موجودہ ریگولیٹری میکانزم ( سیبی ) کی ناکامی ہوئی ہے۔ کمیٹی نے کہا تھا کہ سیبی کی طرف سے کی جا رہی تحقیقات ابھی بھی جاری ہے۔ کمیٹی نے کہا تھا کہ اب تک کی تحقیقات میں سیبی کو اڈانی گروپ کے خلاف کوئی کیس نظر نہیں آتا ہے۔ 2018 میں قواعد میں تبدیلی کی وجہ سے، سیبی کو بیرونی ممالک سے معلومات اکٹھی کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
15 مئی کو، سیبی نے سپریم کورٹ میں جواب داخل کرتے ہوئے کہا کہ سیبی 2016 سے اڈانی گروپ کے خلاف تحقیقات کر رہی ہے، یہ الزام بے بنیاد ہے۔ درخواست گزار جس تحقیقات کا حوالہ دے رہے ہیں وہ دراصل 51 ہندوستانی کمپنیوں کو جاری کردہ گلوبل ڈپازٹ رسید کے بارے میں تھی۔ ان میں اڈانی گروپ کی کوئی کمپنی شامل نہیں ہے۔ سیبی نے کہا کہ ہنڈن برگ رپورٹ میں جن 12 مشکوک لین دین کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ کافی پیچیدہ ہے اور دنیا کے کئی ممالک سے جڑا ہوا ہے۔ ان لین دین سے متعلق ڈیٹا کی جانچ کرنے میں کافی وقت لگے گا۔
ہندوستھان سماچار
/عطاءاللہ
