امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے ٹیرف کے نئے اعلان نے عالمی منڈیوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ بھارت پر بھی اس کا اثر نمایاں طور پر محسوس کیا جا رہا ہے، جس کے پیشِ نظر بھارتی حکومت فوری ردِ عمل دیتے ہوئے متحرک ہو گئی ہے۔ حکومت نے مختلف وزارتوں اور ماہرین کی مدد سے امریکی ٹیرف پالیسی کے اثرات کا جائزہ لینے اور اس سے پیدا ہونے والے ممکنہ نقصانات کو کم کرنے کے لیے عملی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
BulletsIn
-
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ٹیرف کے اعلان سے عالمی منڈیوں میں بےچینی پیدا ہو گئی ہے۔
-
بھارتی حکومت نے امریکی ٹیرف کے اثرات سے نمٹنے کے لیے ایکشن موڈ اپنایا ہے۔
-
وزارتِ صنعت و تجارت کے سینئر افسران نے بھارتی صنعتوں پر ممکنہ اثرات کا تجزیہ شروع کر دیا ہے۔
-
مرکزی حکومت نے ایک کنٹرول روم قائم کیا ہے تاکہ ٹیرف کے اثرات کی نگرانی کی جا سکے۔
-
کنٹرول روم میں مختلف وزارتوں کے سینئر عہدیدار تعینات کیے گئے ہیں جو تجاویز مرتب کریں گے۔
-
ابتدائی جائزے سے ظاہر ہوا ہے کہ کچھ بھارتی شعبے متاثر ہوں گے، جبکہ کچھ کو ممکنہ فائدہ ہو سکتا ہے۔
-
حکومت عالمی ٹیرف پالیسی کا تقابلی جائزہ لے کر بھارت پر اس کے اثرات کا اندازہ لگا رہی ہے۔
-
امریکہ نے بھارت سمیت 180 ممالک پر باہمی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
-
کچھ ممالک پر بھارت سے زیادہ سخت ٹیرف لگایا گیا ہے، جبکہ کچھ ممالک کو 10 فیصد ٹیرف میں رکھا گیا ہے۔
-
ماہرین کا ماننا ہے کہ بھارت کو امریکی ٹیرف آرڈر کی شق 4 کے تحت رعایت مل سکتی ہے، بشرطیکہ بھارت کچھ امریکی مصنوعات پر محصولات میں نرمی کرے۔
