فنانس بل 2025 کو منگل کے روز لوک سبھا میں صوتی ووٹ کے ذریعے منظور کر لیا گیا، جس میں 35 حکومتی ترامیم شامل تھیں۔ اس بل میں آن لائن اشتہارات پر عائد 6 فیصد ڈیجیٹل ٹیکس کو ختم کرنے کی ترمیم بھی شامل تھی۔ فنانس بل کی منظوری کے ساتھ ہی بجٹ کی منظوری کا عمل لوک سبھا میں مکمل ہو گیا، اور اب یہ بل راجیہ سبھا میں پیش کیا جائے گا۔ وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے بل میں براہ راست اور بالواسطہ ٹیکس اصلاحات متعارف کرانے پر زور دیا، جس سے متوسط طبقے اور کاروباری طبقے کو فائدہ پہنچنے کی امید ہے۔
BulletsIn
-
لوک سبھا کی منظوری – فنانس بل 2025 کو 35 حکومتی ترامیم کے ساتھ صوتی ووٹ کے ذریعے منظور کیا گیا۔
-
ڈیجیٹل ٹیکس کا خاتمہ – آن لائن اشتہارات پر عائد 6 فیصد ایکویلائزیشن فیس ختم کر دی گئی۔
-
راجیہ سبھا میں پیشی – لوک سبھا کے بعد اب فنانس بل راجیہ سبھا میں زیر غور آئے گا۔
-
بجٹ کا مکمل عمل – راجیہ سبھا سے منظوری کے بعد 26-2025 کے بجٹ کا عمل مکمل ہو جائے گا۔
-
کل اخراجات – مرکزی بجٹ 26-2025 میں 50.65 لاکھ کروڑ روپے کے اخراجات تجویز کیے گئے ہیں، جو کہ گزشتہ مالی سال سے 7.4 فیصد زیادہ ہیں۔
-
ٹیکس دہندگان کے لیے ریلیف – وزیر خزانہ کے مطابق بجٹ میں ٹیکس دہندگان کو بے مثال ریلیف فراہم کیا گیا ہے۔
-
معاشی ترقی کا ہدف – بجٹ کا مقصد ملکی پیداوار میں اضافہ اور برآمدی مسابقت کو بہتر بنانا ہے۔
-
کاروباری طبقے کو فائدہ – حکومت کی ٹیکس اصلاحات سے متوسط طبقے اور کاروباری طبقے کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔
-
بین الاقوامی معیشت پر اثر – آن لائن اشتہارات پر ڈیجیٹل ٹیکس کا خاتمہ عالمی اقتصادی بے یقینی کو دور کرنے کی کوشش ہے۔
-
وزیر خزانہ کا بیان – نرملا سیتا رمن نے بجٹ کو معیشت کے استحکام اور ترقی کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا۔
