گروپ کمپنیوں کے حصص میں تیزی سے اضافے سے ‘ہنڈنبرگ کرائسز’ ٹل گیا
نئی دہلی، 7 دسمبر (ہ س)۔
ملک کے معروف صنعت کار گوتم اڈانی ایک بار پھر دنیا کے 15 امیر ترین افراد کی فہرست میں شامل ہو گئے ہیں۔ امریکی شارٹ سیلر کمپنی ہنڈن برگ ریسرچ کی رپورٹ کے باعث بڑا دھچکا کا سامنا کرنے والے گوتم اڈانی کی دولت ایک بار پھر 86.02 بلین ڈالر کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔ اس طرح اڈانی اب دنیا کے امیر ترین لوگوں کی فہرست میں 14ویں نمبر پر ہیں۔ کل مالیت کے لحاظ سے، اڈانی ملک کے سب سے امیر صنعت کار مکیش امبانی سے صرف $6.2 بلین پیچھے ہے۔ مکیش امبانی اس وقت دنیا کے امیر ترین افراد کی فہرست میں 13 ویں نمبر پر ہیں جن کی کل دولت 92.4 بلین ڈالر ہے۔
بلومبرگ بلینیئرز انڈیکس کی جمعرات کی رپورٹ کے مطابق، گوتم اڈانی کی کل مالیت میں بدھ کے روز یعنی آخری تجارتی دن 3.71 بلین ڈالر کا اضافہ ہوا ہے، جو 86.02 بلین ڈالر کی سطح پر پہنچ گیا ہے۔ اگرچہ ہنڈن برگ ریسرچ کی متنازعہ رپورٹ سے قبل گوتم اڈانی 120.5 بلین ڈالر کی مجموعی مالیت کے ساتھ دنیا کے 5 امیر ترین افراد کی فہرست میں شامل ہو گئے تھے لیکن ہنڈن برگ ریسرچ نے اڈانی گروپ پر زیادہ قیمتوں اور اکاو¿نٹنگ میں ہیرا پھیری کا الزام لگایا۔جس سے گروپ کمپنیوں کے حصص کو ایک بڑا دھچکا لگا۔ اس کی وجہ سے گوتم اڈانی کی کل مالیت میں زبردست کمی واقع ہوئی تھی اور وہ 60 بلین ڈالر کے قریب پہنچ گئی تھی، لیکن جیسے جیسے ہنڈن برگ ریسرز کی رپورٹ میں یکطرفہ طریقے سے اڈانی گروپ کے خلاف دیئے گئے حقائق کا انکشاف ہوتا گیا ویسے ویسے اڈانی گروپ کی صورتحال بہتر ہوتی گئی۔
قابل ذکر ہے کہ اڈانی گروپ کے حصص میں خاص طور پر 24 نومبر کے بعد سے ہی تیزی کا رجحان رہا ہے۔ 24 نومبر کو سپریم کورٹ نے ہنڈن برگ کے الزامات سے متعلق کیس پر اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا اور ریمارکس دیے کہ کسی بھی الزام کو آنکھیں بند کر کے سچ تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ کچھ دنوں بعد امریکی ایجنسی انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ فائنانس کارپوریشن نے بھی ہنڈنبرگ ریسرچ کی طرف سے اڈانی گروپ کے خلاف لگائے گئے الزامات کو غیر متعلق قرار دیا۔ اس کے ساتھ ایجنسی کی رپورٹ میں ہنڈن برگ کے ارادوں پر بھی شک ظاہر کیا گیا۔ سپریم کورٹ کے رویے اور امریکی ایجنسی کی رپورٹ کی وجہ سے اڈانی گروپ کے حصص کو کافی فروغ ملا۔ اس کے بعد 3 دسمبر کو ہوئے پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں سے تین میں بی جے پی کی شاندار جیت نے بھی اڈانی کے حق میں ماحول بنا دیا۔ جس کی وجہ سے گروپ کمپنیوں کے حصص میں زبردست اضافہ ہوا۔
ہندوستھان سماچار
