نئی دہلی، 14 اگست (ہ س)۔ خوردہ افراط زر کے بعد، تھوک مہنگائی کی شرح بھی جولائی میں دو سال کی کم ترین سطح -0.58 فیصد پر آگئی ہے۔ گزشتہ ماہ جون میں یہ -0.13 فیصد تھی، جبکہ گزشتہ سال جولائی میں یہ 2.10 فیصد تھی۔
وزارت تجارت و صنعت کے مطابق جولائی میں ہول سیل پرائس انڈیکس (ڈبلیو پی آئی) کی بنیاد پر مہنگائی کی شرح -0.58 فیصد رہی جس کی وجہ روزمرہ کی ضروری اشیاء اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں کمی ہے۔ ہول سیل مہنگائی کی منفی شرح بنیادی طور پر اشیائے خوردونوش، معدنی تیل، خام پیٹرولیم اور قدرتی گیس، بنیادی دھاتوں کی تیاری وغیرہ کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے سامنے آئی ہے۔اعداد و شمار کے مطابق جولائی میں اشیائے خوردونوش کی مہنگائی میں 6.29 فیصد کمی ہوئی جبکہ جون میں 3.75 فیصد کی کمی ہوئی۔
جولائی میں سبزیوں کی قیمتوں میں 28.96 فیصد کمی ہوئی ہے جبکہ جون میں یہ 22.65 فیصد تھی۔ تاہم، جولائی میں تیار شدہ مصنوعات کی افراط زر بڑھ کر 2.05 فیصد ہو گئی، جبکہ اس سے پہلے جون کے مہینے میں یہ 1.97 فیصد تھی۔ اس کے علاوہ ایندھن اور بجلی کے شعبے میں منفی افراط زر یا تنزلی جولائی میں 2.43 فیصد تھی جب کہ جون میں یہ 2.65 فیصد تھی۔
جولائی میں خوردہ افراط زر کی شرح 8 سال کی کم ترین سطح 1.55 فیصد پر آگئی ہے۔ یہ ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے ہدف سے کم ہے۔ ریزرو بینک نے حال ہی میں رواں مالی سال کے لیے افراط زر کی پیشن گوئی کو گھٹا کر 3.1 فیصد کر دیا ہے، جو پہلے 3.7 فیصد تھا۔
—————
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی
