امریکی فوج کا اعتراف: میناب میں ایرانی گرلز اسکول پر حملہ امریکی افواج نے کیا ہو سکتا ہے
امریکی فوج کی ابتدائی تحقیقات سے یہ اشارہ ملا ہے کہ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع کے ابتدائی مرحلے کے دوران جنوبی ایران میں ایک گرلز اسکول پر مہلک حملہ امریکی افواج نے کیا ہو سکتا ہے۔ یہ واقعہ، جو میناب شہر میں پیش آیا، مبینہ طور پر درجنوں طالبات کی ہلاکت کا باعث بنا اور اس نے بین الاقوامی توجہ اور تشویش کو اپنی طرف مبذول کرایا ہے۔
تحقیقات سے واقف امریکی حکام کے مطابق، فوجی تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ یہ حملہ امریکی افواج نے کیا تھا، اگرچہ تحقیقات ابھی تک کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچی ہیں۔ حکام نے بتایا کہ تحقیقات ابھی جاری ہیں اور مزید شواہد سامنے آ سکتے ہیں جو موجودہ اندازے کو تبدیل کر سکتے ہیں۔
پینٹاگون نے تصدیق کی ہے کہ باقاعدہ تحقیقات جاری ہیں لیکن اس نے عوامی طور پر اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ حملہ کس فوجی قوت نے کیا تھا۔ امریکی حکام نے زور دیا کہ امریکی افواج جان بوجھ کر اسکولوں جیسے شہری ڈھانچے کو نشانہ نہیں بناتیں اور یہ تحقیقات اس بات کا تعین کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں کہ اصل میں کیا ہوا تھا۔
یہ واقعہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایرانی اہداف کے خلاف مربوط فوجی کارروائیوں کے پہلے دن پیش آیا۔ ان کارروائیوں کا مقصد ملک کے مختلف حصوں میں فوجی تنصیبات، میزائل لانچ سائٹس اور بحری اثاثے تھے۔
جس گرلز اسکول کو نشانہ بنایا گیا وہ جنوبی ایران کے شہر میناب میں واقع تھا۔ ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ حملے میں تقریباً 150 طالبات ہلاک ہوئیں، اگرچہ ہلاکتوں کی صحیح تعداد کی آزادانہ تصدیق ابھی تک نہیں ہوئی ہے۔
اس حملے نے عالمی تشویش کو جنم دیا ہے کیونکہ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت اسکولوں کو محفوظ شہری ڈھانچہ سمجھا جاتا ہے۔
میناب اسکول حملے کی تحقیقات
امریکی فوجی تفتیش کار اسکول پر حملے کے حالات کا تعین کرنے کے لیے فی الحال آپریشنل ریکارڈز، انٹیلی جنس ڈیٹا اور سیٹلائٹ امیجری کا جائزہ لے رہے ہیں۔
تحقیقات میں شامل حکام یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کس قسم کا ہتھیار استعمال کیا گیا، حملے کا مطلوبہ ہدف کیا تھا اور کیا یہ حملہ غلط ہدف کی معلومات یا مقام کی غلط شناخت کی وجہ سے ہوا تھا۔
دو امریکی حکام جنہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی، کہا کہ ابتدائی اندازے
**ایران میں لڑکیوں کے سکول پر حملے کی تحقیقات، امریکہ پر الزامات اور عالمی تشویش**
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس حملے کی ذمہ داری امریکی افواج پر ہو سکتی ہے۔ تاہم، انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تفتیش کاروں نے دیگر امکانات کو مسترد نہیں کیا ہے اور تحقیقات ابھی جاری ہیں۔
پینٹاگون نے تحقیقات جاری ہونے کے باعث مزید آپریشنل تفصیلات فراہم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹھ نے ایک بریفنگ کے دوران اس واقعے کو تسلیم کیا اور تصدیق کی کہ فوج اس حملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکی فوج جان بوجھ کر شہری تنصیبات کو نشانہ نہیں بناتی اور حکام دستیاب شواہد کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔
اسی طرح، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ اگر اس حملے کی تصدیق امریکی افواج کے ذریعے ہونے کی صورت میں، محکمہ دفاع اس واقعے کی مکمل تحقیقات کرے گا۔
دونوں حکام نے اس بات پر زور دیا کہ امریکی فوجی کارروائیاں سخت قواعد کی پابندی کرتی ہیں جن کا مقصد مسلح تنازعات کے دوران شہری ہلاکتوں کو کم سے کم کرنا ہے۔
**بین الاقوامی ردعمل اور تحقیقات کا مطالبہ**
لڑکیوں کے سکول پر مبینہ حملے نے بین الاقوامی تشویش کو جنم دیا ہے اور احتساب کا مطالبہ کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے اس واقعے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ذمہ داری کا تعین کیا جا سکے اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
اقوام متحدہ کے حکام نے نوٹ کیا کہ سکولوں اور ہسپتالوں جیسے شہری ڈھانچے پر حملے بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت ممنوع ہیں، جب تک کہ وہ فوجی مقاصد کے لیے استعمال نہ ہو رہے ہوں۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کی ترجمان روینہ شمڈاسانی نے کہا کہ حملے کے ذمہ دار افواج کو اس واقعے کی شفاف تحقیقات کرنی چاہیے۔
ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی تصاویر میں حملے کے متاثرین کے بڑے جنازے کے اجتماعات دکھائے گئے۔
فوٹیج میں چھوٹے تابوتوں کی قطاریں دکھائی گئیں جو ایرانی پرچموں میں لپٹے ہوئے تھے، جبکہ ہزاروں افراد نے جنازے کی تقریبات میں شرکت کی۔
ان تصاویر نے جاری تنازعے پر عالمی جانچ پڑتال میں شدت پیدا کی ہے اور فوجی کارروائیوں کے دوران شہری ہلاکتوں کے بارے میں خدشات کو جنم دیا ہے۔
**ایران تنازعے کا فوجی پس منظر**
یہ حملہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف کی جانے والی مربوط فوجی کارروائیوں کے پہلے مرحلے کے دوران پیش آیا۔
آپریشن کی منصوبہ بندی سے واقف ذرائع کے مطابق، دونوں ممالک نے اپنے فوجی اہداف کو جغرافیائی اور حکمت عملی کے لحاظ سے تقسیم کیا تھا۔
اسرائیلی افواج بنیادی طور پر مغربی ایران میں میزائل لانچ سائٹس اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنا رہی تھیں، جبکہ امریکی افواج کو رپورٹ کیا گیا تھا
اسکول پر حملے کی تحقیقات: امریکی افواج پر جنگی جرائم کا الزام، عالمی نظریں
اطلاعات کے مطابق، امریکی افواج جنوبی ایران میں اسی طرح کے اہداف اور بحری اثاثوں کے خلاف حملے کر رہی تھیں۔ آبنائے ہرمز کے قریب واقع میناب اس علاقے میں آتا ہے جہاں امریکی افواج کے آپریشنز جاری ہونے کا خیال کیا جاتا تھا۔
فوجی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بڑے پیمانے پر تنازعات میں، جہاں ایک ساتھ کئی حملے کیے جاتے ہیں، کسی مخصوص حملے کے درست ماخذ کا تعین کرنا پیچیدہ ہو سکتا ہے۔ ایسے آپریشنز میں اکثر کم وقت میں متعدد میزائل، طیارے اور دیگر ہتھیار استعمال کیے جاتے ہیں، جس سے ہدف کی غلطی یا غلط شناخت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ممکنہ قانونی اور سیاسی نتائج
اگر تحقیقات سے یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ اسکول پر حملے کی ذمہ داری امریکی افواج پر عائد ہوتی ہے، تو یہ واقعہ حالیہ مشرق وسطیٰ کے تنازعات میں شہریوں کی ہلاکت کے سب سے سنگین واقعات میں سے ایک بن سکتا ہے۔ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت، اسکولوں، ہسپتالوں یا دیگر شہری ڈھانچے پر جان بوجھ کر حملے جنگی جرائم سمجھے جا سکتے ہیں۔
تاہم، فوجی کارروائیوں کے دوران انٹیلی جنس کی ناکامیوں، تکنیکی خامیوں یا اہداف کی غلط شناخت کی وجہ سے بھی شہری ہلاکتیں غیر ارادی طور پر ہو سکتی ہیں۔ لہٰذا، تحقیقات کے نتائج پر بین الاقوامی تنظیمیں، حکومتیں اور انسانی حقوق کے گروپس گہری نظر رکھیں گے۔
فی الحال، تحقیقات جاری ہیں کیونکہ امریکی حکام حملے کے درست حالات کا تعین کرنے کے لیے آپریشنل ڈیٹا اور دیگر شواہد کا جائزہ لے رہے ہیں۔
