2025 میں امریکی گھروں کو بجلی کے بلوں میں حیران کن جھٹکا لگا۔ کھپت کم ہونے کے باوجود بجلی کے بل تقریباً 20٪ بڑھ گئے۔ اس کی اصل وجہ امریکی بجلی مارکیٹ کا ایک پوشیدہ نظام ہے جسے “Capacity Auctions” کہا جاتا ہے۔ اس نظام کے ذریعے عام گھریلو صارفین بالواسطہ طور پر Big Tech کمپنیوں کے AI ڈیٹا سینٹرز کی بھاری بجلی کی ضرورت کو پورا کر رہے ہیں۔ اسی کو “Hidden AI Tax” یعنی “چھپا ہوا AI ٹیکس” کہا جاتا ہے۔
BulletsIn
-
امریکہ کا تضاد – مین (Maine) میں کھپت 7٪ اور نیو جرسی میں 6٪ کم ہوئی، لیکن بل تقریباً 17٪ بڑھ گئے۔
-
Capacity Market کیا ہے؟ – بجلی گھر صرف بجلی فراہم کرنے پر نہیں بلکہ “تیار کھڑے رہنے” پر بھی پیسے لیتے ہیں۔
-
قیمتوں میں دھماکہ – PJM مارکیٹ میں قیمتیں 2024 میں 28$/MW-day سے بڑھ کر 2026 میں 329$/MW-day تک پہنچ گئیں۔
-
AI ڈیٹا سینٹرز کی پیاس – GPT-4 اور GPT-5 جیسے ماڈل کی ٹریننگ کے لیے ہزاروں GPUs دن رات چلتے ہیں۔ ایک ڈیٹا سینٹر اتنی بجلی کھاتا ہے جتنی ایک چھوٹا شہر۔
-
گھروں پر بوجھ – اضافی اخراجات سب صارفین پر تقسیم ہوئے، نتیجہ یہ نکلا کہ گھریلو صارفین نے “Hidden AI Tax” برداشت کیا۔
-
تاریخی رجحان – 2018–21 میں قیمتیں مستحکم، 2022–24 میں ریکارڈ کم، لیکن 2025 کے بعد اچانک اضافہ۔
-
دیگر وجوہات – کوئلے اور گیس کے پلانٹس کی بندش، نئی قابل تجدید توانائی منصوبوں میں تاخیر، سخت قواعد و ضوابط۔
-
بھارت کا مختلف ماڈل – بھارت میں DISCOM کمپنیاں طویل مدتی معاہدوں پر بجلی خریدتی ہیں۔ گھریلو صارفین کو سبسڈی ملتی ہے، جبکہ صنعت زیادہ بل ادا کرتی ہے۔
-
بھارت میں ڈیٹا سینٹرز کی ترقی – 2019 میں 350 MW سے بڑھ کر 2024 میں 1000 MW اور 2026 تک 1800 MW ہونے کا امکان۔ بڑے مراکز: ممبئی، حیدرآباد، نوئیڈا، چنئی۔
-
حل اور مواقع – ڈیٹا سینٹرز کے لیے 100٪ قابل تجدید توانائی لازمی بنانا، اضافی اخراجات صنعت سے وصول کرنا، اسمارٹ گرڈ اور بیٹری اسٹوریج کو بڑھانا، اور نوجوانوں کو پالیسی سازی میں شامل کرنا۔
