نوی ممبئی، 5 جولائی (ہ س)۔
نوی ممبئی میں ایک 30 سالہ شخص نے مبینہ طور پر
اپنی بیوی اور ساس کو کالے جادو کی رسومات کے لیے برہنہ حالت میں شامل ہونے پر
مجبور کیا، جس کا مقصد اپنی بھابھی کی شادی کے لیے کامیابی حاصل کرنا بتایا گیا۔
اس انسانیت سوز حرکت کی تفصیلات اس وقت سامنے آئیں جب متاثرہ خاتون نے 3 جولائی کو
واشی پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروائی۔ پولیس نے آج ہفتہ کو بتایا کہ واقعہ اپریل
سے جولائی کے بیچ پیش آیا، اور اب تک کسی کی گرفتاری نہیں ہوئی ہے۔
ایف آئی آر میں بتایا گیا ہے کہ 15 اپریل
کو ملزم نے اپنی بیوی اور ساس کو زبردستی کپڑے اتروائے اور کالے جادو کی رسم کروائی۔
اس دوران اس نے دونوں کی برہنہ تصویریں بھی لیں۔ بعد میں اس نے اپنی بیوی کو یہ
تصاویر دے کر اجمیر بھیجا، جہاں پہنچنے کے بعد اس نے ان تصاویر کو متاثرہ کے والد
اور بھائی کے واٹس ایپ پر شیئر کیا، جس سے اسے شدید ذہنی اذیت پہنچی۔
ملزم کے خلاف مختلف دفعات کے تحت مقدمہ
درج کیا گیا ہے، جن میں بھارتیہ نیائے سہنتا کی دفعہ 351(2) اور 352، انفارمیشن ٹیکنالوجی
ایکٹ، اور مہاراشٹر میں کالے جادو اور انسانی قربانی جیسے غیر انسانی و بدی اعمال
کے خلاف 2013 میں نافذ کردہ خصوصی قانون شامل ہے۔ پولیس افسران کے مطابق اس واقعہ
کی مکمل چھان بین کی جا رہی ہے اور تحقیقات کی روشنی میں مزید کارروائی عمل میں
آئے گی۔
یہ واقعہ نہ صرف اخلاقی بلکہ قانونی
حوالوں سے بھی سنگین جرم کی نشاندہی کرتا ہے۔ متاثرہ عورت کی ہمت کے باعث معاملہ
منظر عام پر آیا، اور اب پولیس قانون کے مطابق کارروائی کے لیے پرعزم ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / خان این اے
