نیویارک،یکم جولائی(ہ س)۔ٹکنالوجی کی دنیا کی معروف ترین کمپنی مائیکروسافٹ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے طبی سپر انٹیلی جنس کی جانب ایک حقیقی پیش رفت حاصل کی ہے۔ کمپنی کے مصنوعی ذہانت کے شعبے کے سربراہ مصطفی سلیمان کے مطابق، نئی طبی تشخیصی ٹیکنالوجی … انسان معالجوں کے مقابلے میں چار گنا زیادہ درست اور نمایاں طور پر کم لاگت پر بیماریوں کی تشخیص کر سکتی ہے۔ایک تجربے کے دوران، 304 طبی کیسز پر مشتمل ڈیٹا استعمال کیا گیا جو مشہور طبی جریدے New England Journal of Medicine میں شائع ہوئے تھے۔ اس تجربے میں ماڈل نے ہر کیس کو مرحلہ وار اس انداز میں تحلیل کیا جیسے ایک تجربہ کار ڈاکٹر بیماری کی تشخیص کرتا ہے۔یہ نظام جسے MAI Diagnostic Orchestrator (MAI-DxO) کہا جاتا ہے، مختلف جدید AI ماڈلز… جیسے OpenAI کا GPT،Google کا Gemini،Anthropic کا Claude، Meta کا Llama اور xAI کا Grok کے درمیان اس انداز سے ہم آہنگی پیدا کرتا ہے جیسے ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم آپس میں مشورہ کر رہی ہو۔مصنوعی ذہانت اے آئی نظام نے 80٪ درستگی کے ساتھ بیماریوں کی تشخیص کی، جبکہ انسانی ڈاکٹروں کی درستگی صرف 20٪ رہی۔مصنوعی ذہانت نے 20٪ کم لاگت والے طبی ٹیسٹ تجویز کر کے اخراجات بھی کم کیے۔مصطفیٰ سلیمان نے وضاحت کی کہ مختلف AI ماڈلوں کے درمیان اجتماعی مشاورت کی طرز پر کام کرنے کا طریقہ ہی اس نظام کو طبی سپر انٹیلی جنس کی جانب لے جا رہا ہے۔مائیکروسافٹ نے یہ بھی انکشاف کیا کہ اس نے گوگل سے کئی AI محققین کو اپنی ٹیم میں شامل کیا ہے، جو اس میدان میں مسابقت کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔اگرچہ مائیکروسافٹ نے ابھی یہ فیصلہ نہیں کیا کہ یہ نظام تجارتی طور پر کب یا کیسے پیش کیا جائے گا، تاہم امکانات یہ ہیں کہ اسے Bing میں ضم کر کے عام صارفین کو بیماری کی تشخیص میں مدد فراہم کی جائے، یا ڈاکٹروں کے لیے سپورٹ ٹول کے طور پر استعمال کیا جائے۔البتہ اب بھی کچھ چیلنج باقی ہیں، جیسے تربیتی ڈیٹا میں جانب داری کا پایا جانا یا یہ تمام آبادیاتی طبقات کو مکمل طور پر شامل نہ کرنا ۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan
