مہاراشٹر کی سابق ٹرینی آئی اے ایس آفیسر پوجا کھیڈکر ایک متنازعہ معاملے میں خبروں کی زینت بنی ہوئی ہیں، جس میں ان پر جعلی سرٹیفکیٹس کے ذریعے یو پی ایس سی امتحان میں کامیابی حاصل کرنے کا الزام ہے۔ دہلی ہائی کورٹ سے ان کی پیشگی ضمانت کی درخواست مسترد ہونے کے بعد، انہوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا، جہاں اب انہیں ریلیف ملا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے دہلی پولیس کی تحقیقات پر سوالات اٹھائے اور اس کیس میں حراستی تفتیش کی ضرورت پر بھی تنقید کی۔
BulletsIn
-
سپریم کورٹ نے پوجا کھیڈکر کو پیشگی ضمانت دے دی ہے، جسٹس بی وی ناگارتھنا نے کہا کہ ہائی کورٹ سے ہی انہیں ریلیف ملنا چاہیے تھا۔
-
عدالت نے دہلی پولیس سے سوال کیا کہ وہ تحقیقات کیوں مکمل نہیں کر رہی، جب کہ پوجا کھیڈکر نے تعاون کا وعدہ کیا تھا۔
-
دہلی پولیس نے عدالت کو بتایا کہ حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی ضرورت ہے، جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ عام اور حراستی تفتیش میں کیا فرق ہے؟
-
سپریم کورٹ نے کہا کہ جعلی سرٹیفکیٹس کے معاملے میں حراستی تفتیش کی ضرورت نہیں کیونکہ پوجا کھیڈکر اس جرم کی ماسٹر مائنڈ نہیں ہیں۔
-
15 جنوری کو عدالت نے دہلی حکومت اور یو پی ایس سی کو نوٹس جاری کیے تھے۔
-
دہلی ہائی کورٹ نے 23 دسمبر کو پوجا کھیڈکر کی پیشگی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی۔
-
ہائی کورٹ نے کہا کہ بادی النظر میں یو پی ایس سی کے ساتھ دھوکہ دہی کا الزام درست لگتا ہے۔
-
عدالت کے مطابق پوجا کھیڈکر معذوری اور او بی سی زمرے کے فوائد کی حقدار نہیں تھیں، مگر انہوں نے ان کا غلط استعمال کیا۔
-
پروبیشن کے دوران پوجا کھیڈکر نے مبینہ طور پر غیر قانونی مطالبات کیے، جس پر کلیکٹر سوہاس دواسے نے ان کے خلاف شکایت درج کرائی۔
-
مہاراشٹر حکومت نے ان کی ٹریننگ روک دی، فیلڈ پوسٹنگ سے ہٹا دیا، مسوری رپورٹ کرنے کا حکم دیا، مگر وہ نہیں پہنچیں، اور بالآخر یو پی ایس سی نے انہیں برخاست کر دیا۔
