یروشلم اور واشنگٹن کے درمیان حالیہ سفارتی سرگرمیوں میں ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے لیے وائٹ ہاؤس پہنچے۔ یہ ملاقات کئی اہم عالمی و علاقائی امور جیسے کہ غزہ کی جنگ، ایران کے ساتھ کشیدگی اور امریکہ کی تجارتی پالیسیوں پر مرکوز تھی۔ تاہم، حیران کن طور پر اس ملاقات کے بعد طے شدہ مشترکہ پریس کانفرنس منسوخ کر دی گئی، جس کی کوئی واضح وجہ نہیں بتائی گئی۔ یہ دورہ اس وقت ہو رہا ہے جب امریکہ نے دنیا بھر کے تجارتی شراکت داروں پر بھاری محصولات عائد کیے ہیں، جنہوں نے عالمی منڈیوں میں ہلچل مچا دی ہے۔
BulletsIn
-
نیتن یاہو اور ٹرمپ کی ملاقات وائٹ ہاؤس میں ہوئی، جس میں غزہ، ایران اور امریکی ٹیرف جیسے امور زیر بحث آئے۔
-
اس ملاقات کے بعد طے شدہ مشترکہ پریس کانفرنس بغیر کسی وضاحت کے منسوخ کر دی گئی۔
-
العربیہ کے مطابق، پریس کانفرنس کی منسوخی کا اعلان دونوں رہنماؤں کے پہنچنے سے چند لمحے پہلے کیا گیا۔
-
یہ نیتن یاہو کا رواں سال کا دوسرا دورہ واشنگٹن تھا؛ پہلا دورہ فروری میں ہوا تھا۔
-
پہلے دورے میں ٹرمپ نے غزہ کو ترقی یافتہ علاقہ بنانے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا، جس کا مقصد اسے مشرق وسطیٰ کا رویرا بنانا تھا۔
-
اس بار دورہ ایسے وقت پر ہوا جب ٹرمپ نے دنیا بھر کے تجارتی شراکت داروں پر بھاری ٹیرف عائد کیے، جس سے عالمی منڈیاں متاثر ہوئیں۔
-
نیتن یاہو ان پہلے غیر ملکی رہنماؤں میں شامل ہیں جنہوں نے ٹیرف اعلان کے بعد وائٹ ہاؤس کا دورہ کیا۔
-
نیتن یاہو کا مقصد اسرائیل پر لاگو 19 فیصد امریکی ٹیرف کو منسوخ کرانا یا کم کروانا تھا۔
-
اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے باوجود 18 مارچ کو دوبارہ حملے شروع کر دیے، جن میں اب تک 50,695 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔
-
ٹرمپ ایران کے ساتھ نئے ایٹمی معاہدے پر براہ راست مذاکرات چاہتے ہیں تاکہ تہران کا جوہری پروگرام محدود کیا جا سکے۔
