امریکہ میں درآمد شدہ کاروں اور ٹرکوں پر 25 فیصد نیا ٹیرف عائد کر دیا گیا ہے، جس کا اعلان صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کیا۔ اس اقدام کا مقصد امریکی آٹو مینوفیکچرنگ کو فروغ دینا ہے، تاہم اس سے درآمدی گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافے کا امکان ہے۔ اس فیصلے سے امریکی صارفین پر اثر پڑے گا اور آٹو انڈسٹری میں بھی ہلچل مچ سکتی ہے۔
BulletsIn
-
25 فیصد ٹیرف: درآمد شدہ گاڑیوں اور ان کے پرزہ جات پر 25 فیصد ٹیرف نافذ ہوگا۔
-
3 اپریل سے نفاذ: نئی ٹریفک پالیسی کا اطلاق 3 اپریل سے ہوگا، جبکہ پرزہ جات پر ٹیرف 3 مئی سے نافذ ہوگا۔
-
آٹو انڈسٹری پر اثرات: امریکی آٹو مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے کے لیے یہ اقدام اٹھایا گیا ہے۔
-
کینیڈا اور میکسیکو مستثنیٰ نہیں: پہلے آزاد تجارتی معاہدوں کے تحت بچنے والے ممالک اب اس ٹیرف کے دائرے میں آئیں گے۔
-
امریکی کاروں پر کوئی اضافی ٹیرف نہیں: جو کاریں امریکہ میں تیار کی جائیں گی، ان پر کوئی ٹیرف نہیں لگے گا۔
-
ٹرمپ کا بیان: انہوں نے کہا کہ بعض دوست ممالک دشمنوں سے بھی بدتر رویہ اپناتے ہیں، اس لیے یہ ٹیرف ضروری تھا۔
-
کار ساز کمپنیوں سے رابطہ: ٹرمپ نے اسٹیلنٹیس، فورڈ اور جنرل موٹرز کے ساتھ اس معاملے پر مشاورت کی۔
-
شیئر مارکیٹ پر اثر: ٹیرف کے اعلان کے بعد ان تینوں کمپنیوں کے شیئرز گر گئے، جی ایم کے شیئر میں 7 فیصد اور دیگر کے 4 فیصد سے زائد کمی ہوئی۔
-
صارفین پر اثر: اس اقدام سے گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے، جس کا بوجھ امریکی صارفین کو برداشت کرنا پڑے گا۔
-
درآمد شدہ گاڑیوں کا حصہ: 2024 میں امریکہ میں خریدی گئی 16 ملین گاڑیوں میں سے نصف درآمدی تھیں، جو اس ٹیرف سے متاثر ہوں گی۔
