رونن بار، جو اسرائیل کی داخلی سلامتی سروس شن بیٹ کے سربراہ ہیں، کی برطرفی کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حکومت نے ان کی مدتِ ملازمت ختم کرنے کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب اسرائیل میں سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال پیچیدہ بنی ہوئی ہے۔ نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ غزہ میں فتح کے لیے بار کو ہٹانا ضروری تھا۔
BulletsIn
- اسرائیلی داخلی سلامتی سروس شن بیٹ کے سربراہ رونن بار کو برطرف کرنے کا فیصلہ۔
- وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حکومت نے متفقہ طور پر ان کی برطرفی کے حق میں ووٹ دیا۔
- اسرائیل کی سپریم کورٹ میں اس فیصلے کے خلاف اپیل کی جا سکتی ہے۔
- بار 10 اپریل 2025 کو یا نئے سربراہ کی تقرری کے بعد عہدہ چھوڑ دیں گے۔
- نیتن یاہو نے گزشتہ ہفتے رونن بار کو ان کی برطرفی کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔
- نیتن یاہو نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ بار کے خلاف طویل عرصے سے عدم اعتماد پایا جاتا تھا۔
- نیتن یاہو کے مطابق غزہ میں اسرائیلی فتح کے لیے رونن بار کو ہٹانا ضروری تھا۔
- حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ فیصلہ متفقہ طور پر لیا گیا۔
- رونن بار کی برطرفی کا فیصلہ اسرائیل میں داخلی سیاسی اور سیکیورٹی چیلنجز کے دوران آیا ہے۔
- یہ معاملہ اسرائیل کی داخلی سیاست اور سیکیورٹی پالیسیوں پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔
