منی پور میں حالیہ امن و امان کی بحالی کی کوششوں کے تحت، گورنر کی جانب سے غیر قانونی اسلحہ اور گولہ بارود جمع کرانے کی اپیل کے بعد بڑی تعداد میں ہتھیار انتظامیہ کے حوالے کیے گئے۔ ماضی میں پرتشدد تحریکوں کے دوران پولیس تھانوں اور سیکیورٹی فورسز سے اسلحہ لوٹ لیا گیا تھا، جبکہ پڑوسی ممالک سے غیر قانونی ہتھیاروں کی اسمگلنگ نے ریاست کے امن کو شدید خطرے میں ڈال دیا تھا۔ اس تناظر میں گورنر کی اپیل کو ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں مختلف اقسام کے ہتھیار اور متعلقہ سامان حکام کے سپرد کر دیا گیا ہے۔
BulletsIn
- گورنر منی پور کی اپیل – 20 فروری کو گورنر کی جانب سے غیر قانونی اسلحہ جمع کرانے کی عوامی اپیل جاری کی گئی۔
- بڑی مقدار میں اسلحہ کی حوالگی – عوام اور مختلف گروہوں نے بڑی تعداد میں ہتھیار اور گولہ بارود سرکاری حکام کے حوالے کیے۔
- پرتشدد تحریکوں کا پس منظر – ماضی میں ریاست میں بدامنی کے دوران سیکیورٹی فورسز اور پولیس تھانوں سے اسلحہ لوٹ لیا گیا تھا۔
- کاکچنگ ضلع میں اسلحہ کی جمع آوری – 303 رائفل، بلٹ پروف جیکٹس، ہیلمٹ اور دیگر اشیاء ایس پی کاکچنگ کے سامنے جمع کرائی گئیں۔
- کانگپوکپی ضلع میں ہتھیاروں کی حوالگی – ایک لوٹی ہوئی آنسو گیس بندوق سپموئینا تھانے کے انچارج کے حوالے کی گئی۔
- سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں – کاکچنگ واری کے علاقے میں تلاشی کے دوران برآمد شدہ اسلحہ پولیس کے حوالے کیا گیا۔
- متعدد ہتھیاروں اور گولہ بارود کی فہرست – انساس رائفل، 9 ایم ایم پستول، 12 بور شاٹ گن، ہینڈ گرنیڈ، گولیوں کے متعدد راونڈز، بلٹ پروف جیکٹس اور دیگر اشیاء برآمد ہوئیں۔
- دیگر سامان کی برآمدگی – موٹرولا سیٹ، چارجنگ اڈاپٹر، بیونیٹ، کھکری، بلٹ پروف پلیٹس، اور سیاہ کیری بیگز بھی ضبط کیے گئے۔
- نقد رقم کی برآمدگی – انتظامیہ کو 2,50,000 ہندوستانی روپے بھی حوالے کیے گئے۔
- مزید ہتھیار جمع کرانے کی اپیل – حکام نے شہریوں سے درخواست کی ہے کہ وہ مزید غیر قانونی اسلحہ حکام کے حوالے کریں تاکہ ریاست میں مکمل امن بحال ہو سکے۔
