جموں و کشمیر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر، میاں عبدالقیوم، کو ساتھی ایڈووکیٹ بابر قادری کے قتل کی سازش میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ اس کیس کی تحقیقات جاری ہیں، اور این آئی اے عدالت نے قیوم کے پولیس ریمانڈ میں چھ دن کی توسیع کر دی ہے۔ عبدالقیوم کے وکالت میں چالیس سال سے زائد کا تجربہ ہے اور انہیں باقاعدہ طبی دیکھ بھال کی ضرورت ہے۔
BulletsIn
- میاں عبدالقیوم، جموں و کشمیر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر ہیں۔
- انہیں 25 جون 2020 کو بابر قادری کے قتل کی سازش میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔
- قادری کو ستمبر 2020 میں ان کی رہائش گاہ پر گولی مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔
- این آئی اے عدالت نے قیوم کے پولیس ریمانڈ میں چھ دن کی توسیع کی ہے۔
- جج نے نوٹ کیا کہ تفتیش ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور مزید ریمانڈ ضروری ہے۔
- قیوم نے اپنے ریمانڈ میں توسیع کی مخالفت کی اور اپنی صحت کے بارے میں تشویش ظاہر کی۔
- عدالت نے ملزم کو مناسب طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت دی۔
- استغاثہ کا کہنا ہے کہ قیوم تفتیش میں مکمل تعاون نہیں کر رہے۔
- مقدمے کو سری نگر سے جموں منتقل کیا گیا تاکہ منصفانہ اور غیر جانبدارانہ ٹرائل ہو سکے۔
- قیوم نے دعویٰ کیا کہ انہیں بغیر کسی جواز کے گرفتار کیا گیا اور وہ مقدمے میں باقاعدگی سے حاضر ہوتے رہے ہیں۔
