رشی سنک کو جھٹکا، ہاوس آف لارڈز سے نہیں پاس ہوسکا روانڈا بل
لندن، 21 مارچ ۔ وزیر اعظم رشی سنک کا اہمیت کا حامل ’’روانڈا بل‘‘ ایک بار پھر اٹک گیا ہے۔ برطانوی پارلیمنٹ کے ایوان بالا ہاوس آف لارڈز میں بدھ کو اس بل پر ووٹنگ ہوئی تاہم یہ منظور نہیں ہو سکا۔ ہاوس آف لارڈز کے ارکان نے بل میں ترمیم کی مانگ کی ہے۔
لندن کے معروف اخبارات ’’دی ٹائمز اور دی سنڈے ٹائمز‘‘ کی ایکس ہینڈل پوسٹس کے مطابق سنک کو فلائٹ میں تاخیر کے معاملے پر ہاوس آف لارڈز میں پہلے ہی تنقید کا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ اب انہیں روانڈا بل پر ایک اور دھچکا لگا ہے۔ انہوں نے ارکان پارلیمنٹ سے اس بل پر متحد ہونے کی درخواست کی تھی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ روانڈا بل کا مقصد انگلش چینل کے ذریعے غیر قانونی طور پر برطانیہ آنے والے مہاجرین کو روکنا ہے۔ گزشتہ سال انگلش چینل کے ذریعے 29,437 افراد برطانیہ پہنچے۔ دریں اثنا حزب اختلاف کے رہنماوں کے ساتھ ساتھ حکمراں کنزرویٹیو پارٹی کے بعض رہنماوں نے بھی بل میں ترمیم کی حمایت کی ہے۔
بل کا مقصد
روانڈا بل کے تحت برطانوی حکومت سیاسی پناہ کے متلاشی افراد کو روانڈا بھیجے گی۔ وہاں سے وہ برطانیہ میں سیاسی پناہ کی درخواست دے سکیں گے۔ برطانوی حکومت نے 2023 کے آخر تک مہاجرین کے لیے روانڈا کو 240 ملین پاؤنڈ ادا کیے تھے۔
دو سال سے زیر التوا
روانڈا بل کا اعلان اپریل 2022 میں بورس جانسن کی حکومت کے دوران کیا گیا تھا۔ گزشتہ سال نومبر میں برطانیہ کی سپریم کورٹ نے اس بل پر کہا تھا کہ روانڈا برطانیہ میں سیاسی پناہ حاصل کرنے والے لوگوں کے لیے محفوظ ملک نہیں ہے۔ اس کے بعد سنک حکومت نے دسمبر میں ’’سیفٹی آف روانڈا بل‘‘ ایوان میں پیش کیا۔ اگر یہ بل برطانیہ کے ایوان بالا یعنی ہاوس آف لارڈز سے منظور ہو جاتا تو سپریم کورٹ کا فیصلہ بائی پاس ہوجاتا۔
لیبر پارٹی کا موقف
حزب اختلاف کی جماعت لیبر پارٹی اس بل کے خلاف ہے۔ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ بل پاس ہونے کے باوجود اقتدار میں آنے پر اسے واپس لے لیا جائے گا۔ قابل ذکر ہے کہ برطانیہ میں آئندہ سال جنوری میں عام انتخابات ہونے ہیں۔
