اندور/مانڈو، 29 دسمبر (ہ س)۔
مدھیہ پردیش میں معصوم بچیوں کی عصمت دری کے واقعات رکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں، حالانکہ پولیس وقتاً فوقتاً خواتین و اطفال ترقیات کے ساتھ گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ کو لیکر اسکولوں میں مہم چلاتی رہتی ہے، لیکن اس کے باوجود آس پاس رہنے والے لوگ گھر اور خاندان کے رشتہ دار رشتوں کو داغدار کرتے رہتے ہیں۔ ایسا ہی ایک معاملہ دھار ضلع سے سامنے آیا ہے۔
مدھیہ پردیش کے دھار ضلع میں پانچ سالہ معصوم بچی کو اس کے منہ بولے چچا نے زیادتی کا نشانہ بنایا۔ جمعرات کی دیر رات لڑکی کو تشویشناک حالت میں ایم وائی اسپتال دھار سے اندور ریفر کیا گیا۔ لڑکی کی سرجری جمعہ کی دوپہر کی گئی۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ بچی کی حالت تشویشناک ہے۔ اسپتال میں مانیٹرنگ کے لیے خواتین عملہ کو تعینات کر دیا گیا ہے۔ پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔
معلومات کے مطابق یہ واقعہ دھار ضلع کے نالچھا بلاک کے گاوں سرائے میں پیش آیا۔ 40 سالہ ملزم جگن ولد گووند بچی کے پڑوس میں رہتا ہے اور بچی کا منہ بولا چچا لگتا ہے۔ جمعرات کی شام ملزم نے لڑکی کو بسکٹ دینے کے بہانے بلایا اور اپنے گھر لے گیا اور اس کی عصمت دری کی۔ بچی روتی ہوئی خون آلود حالت میں اپنے گھر پہنچی ۔ بچی کی حالت دیکھ کر دادی نے اپنے بیٹے اور بہو کو بتایا۔ اس کے بعد پولیس کو اطلاع دی گئی۔
اطلاع پر پہنچی پولیس بچی کو ضلع اسپتال لے گئی۔ یہاں سے ڈاکٹروں نے اسے اندور ریفر کر دیا۔ بچی کا آپریشن جمعہ کی دوپہر کو کیا گیا۔ اس کی حالت تشویشناک ہے۔ ایم جی ایم میڈیکل کالج کے ڈین ڈاکٹر سنجے دیکشت، ایم وائی ایچ کے سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر پی ایس ٹھاکر اور دیگر سینئر افسران ایم وائی اسپتال پہنچے اور بچی کی صحت کے بارے میں جانکاری لی۔ یہاں اسے الگ یونٹ میں زیر نگرانی رکھا گیا ہے۔ خواتین پولیس اہلکاروں کو بھی ڈیوٹی پر لگا دیا گیا ہے۔ وہیں ملزم واردات کے بعد فرار ہوگیا تھا جسے پولیس نے جمعہ کو گرفتار کرلیا۔ ملزم شادی شدہ اور چار بچوں کا باپ ہے۔
ہندوستھان سماچار/
/عطاءاللہ
