
جموں ،22 دسمبر (ہ س)۔
جموں و کشمیر کے سرحدی ضلع راجوری میں دہشت گردانہ حملے میں فوج کے پانچ جوانوں کی شہادت اور دو دیگر کے شدید زخمی ہونے کے ایک دن بعد، جمعہ کی صبح سیکورٹی فورسز نے ڈیرہ کی گلی کے جنگلاتی علاقے کو گھیرے میں لے کر تلاشی مہم شروع کر دی۔ ایک اہلکار نے بتایا کہ رات بھر کی کارروائی کے بعد صبح بڑے پیمانے پر محاصرے اور تلاشی کی کارروائی شروع کر دی گئی۔ اور فضائی نگرانی بھی کی جا رہی ہے۔افسر نے بتایا کہ دہشت گردوں کا سراغ لگانے کے لیے آپریشن میں سونگھنے والے کتوں کو بھی تعینات کیا گیا ۔
اس آپریشن میں اضافی فوجیوں کو شامل کیا گیا ہے۔ ڈیرہ کی گلی روڈ کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ فوج اور پولیس کے اعلیٰ حکام زمینی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔قابل ذکر ہے کہ جمعرات کی سہ پہر 3 بج کر 45 منٹ پر سرنکوٹ تھانے کے علاقے میں ڈیرہ کی گلی جنگل میں ٹوپا پیر کے علاقے کے قریب ایک موڑ پر دہشت گردوں نے گھات لگا کر فوج کی دو گاڑیوں کو نشانہ بنایا۔ اس حملے میں فوج کے پانچ جوان شہید جبکہ دو شدید زخمی ہو گئے۔
اس حملے میں نائک بیرندر سنگھ، نائک ڈرائیور کرن کمار، رائفل مین چندن کمار اور رائفل مین گوتم کمار سمیت پانچ فوجی شہید ہوئے تھے۔ پانچویں فوجی کی شناخت نہیں ہو سکی ہے۔ حملے میں شدید زخمی دو فوجی اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ دہشت گردوں کی تعداد تین سے چار تھی۔ حکام کا کہنا ہے کہ حملے کے بعد دہشت گردوں نے کم از کم دو فوجیوں کی لاشوں کو مسخ کر دیا اور ان میں سے کچھ کے ہتھیار بھی ساتھ لے گئے۔
اصغر/ہندوستھان سماچار
/محمد
