
اسرائیل کا دعویٰ: حماس کے کئی جنگجو ہلاک اور کئی نے ہتھیار ڈالے
غزہ، 15 دسمبر (ہ س)۔ اسرائیل کی جارحانہ فوجی مہم جاری ہے۔ غزہ پٹی میں جنگ کے 70ویں روز جمعہ کو حماس کے کئی جنگجووں کے ہتھیار ڈالنے کا دعویٰ کیا جارہا ہے۔ اب تک سینکڑوں جنگجوں ہتھیار ڈال چکے ہیں۔ اسرائیلی فوجیوں نے کمال عدوان اسپتال کے قریب ایک حملے میں حماس کے کئی کارکنوں کو ہلاک کر دیا۔
معروف اخبار دی یروشلم پوسٹ کے مطابق اسرائیل اور حماس کی جنگ آج 70ویں دن میں داخل ہو گئی۔ حماس کے جنگجو بڑے گروپوں میں آئی ڈی ایف کے فوجیوں کے سامنے ہتھیار ڈال رہے ہیں۔ آج صبح بھی حماس کے جنگجووں نے ہتھیار ڈال دیئے۔ اخبار کے مطابق اسرائیل ڈیفنس فورسز کے بین الاقوامی ترجمان لیفٹیننٹ کرنل جوناتھن کونریکس نے کہا ہے کہ اسرائیل غزہ میں بھاری قیمت چکا رہا ہے لیکن اپنے ہدف پر ثابت قدم ہے۔
جمعرات کو اسرائیلی ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) کی طرف سے جاری کردہ ایک پریس بیان کے مطابق کمال عدوان اسپتال کے علاقے میں حماس کی ایک عمارت سے بڑی تعداد میں اسلحہ ملا ہے۔ یہاں انکاونٹر میں فوجیوں نے کئی جنگجووں کو ہلاک کردیا۔ آئی ڈی ایف کے مطابق بڑی تعداد میں فوجیوں کو آتے دیکھ کر حماس کے جنگجو گھبرا گئے۔ اس دوران 70 سے زائد جنگجو اسلحہ لے کر اسپتال سے باہر نکلے۔ انہوں نے ہتھیار ڈال دیے۔ بعد ازاں انہیں پوچھ گچھ کے لیے انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ کے یونٹ 504 بھیج دیا گیا۔
آئی ڈی ایف نے کہا ہے کہ اس دوران اسے جنگجو تنظیم حزب اللہ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ حزب اللہ نے پانچ راکٹ فائر کئے۔ ان میں سے ایک راکٹ لبنان سے داغا گیا۔ وہ اب تک سینکڑوں راکٹ اور میزائل داغ چکا ہے۔ سیکورٹی فورسز اسے منہ توڑ جواب دے رہی ہیں۔ ٹائمز آف اسرائیل نے اس جنگ پر امریکہ کی تشویش پر ایک رپورٹ شائع کی ہے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیون نے جمعرات کو اسرائیل میں اعلیٰ حکام سے ملاقات کی۔ سلیون نے تل ابیب میں اسرائیلی حکام کے ساتھ بائیڈن انتظامیہ کی ترجیحات پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ وائٹ ہاؤس چاہتا ہے کہ اسرائیلی دفاعی افواج غزہ میں جنگ چند ہفتوں میں ختم کر دیں۔ تاہم، اسرائیلی رہنماوں نے اپنے عہد کا اعادہ کیا کہ آئی ڈی ایف غزہ کی پٹی میں اس وقت تک فوجی کارروائیاں جاری رکھے گا جب تک دہشت گرد گروہ کو شکست نہیں دی جاتی۔
ہندوستھان سماچار
/شہزاد
