جے شری رام کا نعرہ نہیں لگانے پر مسلم نوجوانوں کو سر قلم کرنے کی دھمکی
گیا، 12 دسمبر(ہ س)۔ بہار کے گیا ضلع کا ایک ویڈیو وائرل ہو رہا ہے جس میں اکثریتی فرقے کا ایک لڑکا اقلیتی طبقہ کے لوگوں سے زبردستی مذہبی نعرہ لگانے کے لیے دھمکی دیتے ہوئے نظر آ رہا ہے۔ اس دوران لڑکے کے ساتھ شامل دوسرے نوجوان اس واقعے کا ویڈیو بناتے ہیں۔ اس ویڈیو میں یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ وہ لڑکا کچھ بولتے ہوئے دور سے آ رہا ہے۔ اس کے پیچھے اس کے ساتھی ویڈیو بناتے ہوئے ساتھ چل رہے ہیں حالانکہ ویڈیو بنانے والے نے اپنا چہرہ ظاہر نہیں کیا ہے۔
ویڈیو منظر عام پر آنے پر پولیس نے فوری طور پر کارروائی کی ہے۔ ساتھ ہی اس معاملے کے حوالہ سے مفصل تھانہ میں ایف آئی آر بھی درج ہوئی ہے۔ سٹی ایس پی ہمانشو نے اس کی اطلاع دیتے ہوئے بتایا کہ ایک ویڈیو انسٹا گرام پر اپ لوڈ کی گئی تھی جو فرقہ وارانہ ماحول پیدا کرنے والی تھی۔ پولیس نے معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے انسٹا گرام پروفائل کو چیک کیا اور ویڈیو بنانے والوں کو حراست میں لیا ہے۔
دراصل گیا کے مانپور مفصل تھانہ حلقہ میں واقع پٹرول پمپ کے نزد گمٹی کے پاس کچھ لوگ کھڑے تھے۔ ویڈیو کو دیکھنے سے لگتا ہے کہ وہ وہاں پر کچھ خریداری کے لئے رکے ہوئے تھے۔ داڑھی رکھے ہوئے ایک شخص کے پاس ایک لڑکا پہنچتا ہےاور اُس سے جے شری رام کا نعرہ لگانے کو کہتا ہے۔ ایسا نہیں کرنے پر وہ بد سلوکی اور نازیبا الفاظ کا استعمال کرنے لگا۔ جب اس شخص نے نعرہ لگانے سے منع کردیا تو وہ لڑکے کو یہ کہتے ہوئے سنا جاتا ہے کہ اگر ہندوستان میں رہنا ہے تو جے شری رام کہنا ہوگا۔ اگر وہ ایسا نہیں کہے گا تو اس کی گردن اتار دی جائے گی۔
مسلسل وہ اُن لوگوں کے ساتھ بد کلامی کرتا رہا، تب ہی ایک اور شخص اس لڑکے کو خاموش رہنے کو کہتا ہے تو اس لڑکے کا جواب ہوتا ہے کیا وہ اسے پہچانتا ہے؟ گیا کا وہ باس ہے جبکہ اس لڑکے کے ساتھ اور کچھ نوجوان ہوتے ہیں جو اس کی ویڈیو بناتے رہتے ہیں۔ اشتعال انگیز ویڈیو بنانے والے نوجوان کے لباس اور حلیہ سے لگتا ہے کہ وہ باضابطہ اس واقعہ کی پوری ویڈیو بنانے کے لیے تیاری سے پہنچا تھا۔ ویڈیو انسٹا گرام پر اپ لوڈ بھی کی گئی ہے لیکن جب ویڈیو پولیس تک پہنچی تو پولیس نے فوری طور پر اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا اور کارروائی کی ہے۔
سٹی ایس پی ہمانشو نے بتایا کہ یہ آپسی بھائی چارے کو بگاڑنے اور ماحول کو خراب کرنے کی کوشش ہے۔ مفصل تھانہ میں مقدمہ نمبر 1217 درج ہوا ہے جس میں مختلف دفعات لگائی گئی ہیں۔ اس طرح کے معاملے کو انجام دینے والوں کو کسی بھی حال میں بخشا نہیں جائے گا۔
ہندوستھان سماچار/ افضل
/شہزاد
