ٹیکساس میں اسقاط حمل کی مانگ کرنے والی خاتون کے خلاف قانونی شکنجہ کسا
ہیوسٹن، 12 دسمبر (ہ س)۔ ٹیکساس کی سپریم کورٹ نے حمل سے متعلق مشکل پریشانیوں کا سامنا کرنے والی ڈلاس کے علاقے کی 31 سالہ خاتون کیٹ کوکس کے خلاف پیر کو شکنجہ کس دیا۔ کوکس کو کچھ دن پہلے ہی ایک نچلی عدالت نے اسقاط حمل کروانے کی اجازت دی تھی۔ سپریم کورٹ نے جمعہ کو اس فیصلے پر عارضی روک لگا دی تھی۔
امریکہ کے معروف اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق کیٹ کوکس نے اسقاط حمل کی سہولت فراہم کرنے پر ریاست ٹیکساس پر مقدمہ دائر کیا تھا۔ اس کے بعد وہ اسقاط حمل کروانے کے لیے ریاست چھوڑ گئی۔ قابل ذکر ہے کہ ٹیکساس میں اسقاط حمل پر پابندی ہے۔
اخبار کے مطابق سینٹر فار ری پروڈکٹیو رائٹس کی صدر اور سی ای او نینسی نارتھ اپ نے کہا کہ قانونی پریشانی کا آخری ہفتہ کیٹ کے لیے جہنم رہا ہے۔ وہ اسقاط حمل کروانے کے لیے کہاں گئی؟ اس کی تفصیلات عام نہیں کی جا سکتیں۔ سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ خاتون کے وکیل اور ڈاکٹر یہ ثابت نہیں کر سکے کہ کیٹ کوکس ٹیکساس کے اسقاط حمل پر پابندی کے تحت اسقاط حمل کے لیے اہل تھی۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق گزشتہ ہفتے ٹیکساس کی ضلع عدالت میں دائر کی گئی درخواست کے مطابق نومبر کے آخر میں 20 ہفتوں کی حاملہ کوکس کو اپنے حمل کی پیچیدگی کا علم ہوا۔ اسے علم ہوا کہ جنین میں ٹرائیسومی 18، یا ایڈورڈز سنڈروم ہے۔ ایسے جنین اکثر پیدائش سے پہلے یا اس کے فوراً بعد مر جاتے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ کیٹ کے پہلے سے ہی دو بچے ہیں۔ دونوں بچوں کی پیدائش سیزرین طریقہ کار سے ہوئی۔
ہندوستھان سماچار
/شہزاد
