مرشد آباد اسپتال کے حکام نے 24 گھنٹوں میں 10 بچوں کی موت پر دی وضاحت، وجہ بتائی
کولکاتا، 9 دسمبر (ہ س)۔ میٹروپولیٹن شہر کولکاتا سے 200 کلومیٹر دور مرشد آباد کے ضلع سرکاری اسپتال میں 24 گھنٹوں کے اندر 10 بچوں کی موت نے ہلچل مچا دی ہے۔ مقامی لوگوں نے ڈاکٹروں پر سنگین غفلت کا الزام عائد کیا ہے جس کے بعد ضلع محکمہ صحت نے جمعہ کو ہی جانچ کمیٹی تشکیل دی تھی۔ اس کے بعد اسپتال کے حکام نے بچوں کی موت کے پیچھے عجیب و غریب وجوہات بتانا شروع کردی ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ جاں بحق ہونے والے بچے سنگین امراض میں مبتلا تھے۔ حالانکہ لوگوں کا کہنا ہے کہ شدید بیمار بچوں کو ہی اسپتال لے جایا جاتا ہے لیکن اتنی بڑی تعداد میں بچوں کی موت سوالوں کے گھیرے میں ہے۔
مرشد آباد میڈیکل کالج اینڈ ہاسپٹل میں بدھ کی آدھی رات تک 24 گھنٹے میں نو نوزائیدہ اور ایک دو سالہ بچے کی موت ہو گئی۔ ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ 10 بچوں میں سے تین کی پیدائش اسپتال میں ہوئی تھی اور سات کو دوسرے اسپتالوں سے علاج کے لیے لایا گیا تھا۔
عہدیدار نے بتایا کہ ان میں سے دو شیر خوار پیدائش سے ہی دل کی بیماری میں مبتلا تھے، ایک کو اعصابی مسائل تھے، دو سیپٹیسیمیا میں مبتلا تھے، تین کا پیدائشی وزن کم تھا اور ایک کا پیدائشی وزن کم ہونے کے علاوہ دیگر مسائل بھی تھے۔ جب ضلع محکمہ صحت کی جانب سے بنائی گئی کمیٹی اپنی جانچ کر رہی تھی، ہسپتال کے ایک دیگر اہلکار نے بتایا کہ بچوں میں سے ایک کی عمر 26 ماہ تھی اور وہ پیدائشی بیماریوں میں مبتلا تھا۔ تاہم ان سب نے ڈاکٹروں کی غفلت سے انکار کیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
/شہزاد
