کوئلے کی درآمد اپریل سے ستمبر کے درمیان 5 فیصد کم ہوکر 12.52 کروڑ ٹن رہ گئی
نئی دہلی، 06 دسمبر (ہ س)۔
حکومت نے لوک سبھا میں کہا کہ رواں مالی سال 2023-24 کے اپریل تا ستمبر کی مدت میں ملک میں کوئلے کی درآمد پانچ فیصد کم ہو کر 125.2 ملین ٹن رہ گئی۔ کمرشیل کول مائن آکشن کے تحت 8ویں راو¿نڈ تک 91 کوئلے کی کانوں کی کامیابی سے نیلامی کی جا چکی ہے۔
مرکزی کوئلہ، کانوں اور پارلیمانی امور کے وزیر پرہلاد جوشی نے بدھ کو لوک سبھا میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ تجارتی کوئلے کی کانوں کی نیلامی کے تحت آٹھویں دور تک 91 کوئلے کی کانوں کی کامیابی سے نیلامی کی گئی ہے۔ جوشی نے کہا کہ اگر تجارتی کوئلے کی کانوں کی نیلامی شروع نہ کی گئی ہوتی تو مجموعی سالانہ ترقی کی شرح (سی اے جی آر) کے مطابق 15 کروڑ ٹن کوئلہ درآمد کرنے کی ضرورت پڑتی، لیکن ملک نے اپریل کے دوران درحقیقت صرف 12.52 کروڑ ٹن ہی درآمد کیا تھا۔ ستمبر 2023-24 کروڑ ٹن کوئلہ درآمد کیا گیا ہے۔
وزیر کوئلہ نے کہا کہ رواں مالی سال 2023-24 میں ستمبر 2023 تک کوئلے کی درآمد 12.52 کروڑ ٹن تھی جو کہ گزشتہ مالی سال 2022-23 کی اسی مدت کے مقابلے میں پانچ فیصد کم ہے۔ جوشی نے کہا کہ حکومت نے کوئلے کی درآمد کا متبادل فراہم کرنے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ اس کے تحت کوئلے کی ملکی پیداوار بڑھانے پر زور دیا جا رہا ہے جو خود انحصاری کے حصول اور درآمدی کوئلے پر انحصار کم کرنے کے لیے اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ جون 2020 میں وزیر اعظم کی طرف سے کمرشل آکشن سکیم کے آغاز کے بعد سے وزارت کوئلہ نے کمرشل کول مائن آکشن کے تحت 91 کوئلے کی کانوں کو کامیابی سے نیلام کیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
