واشنگٹن،05دسمبر(ہ س)۔
امریکہ اعلیٰ حکام نے اسرائیل کو آگاہ کر دیا ہے کہ جنوبی غزہ میں جنگی کارروائیاں بڑھانے سے امریکی حکام کو بے چینی ہو رہی ہے کہ اس صورت میں لاکھوں فلسطینیوں کو بمباری سے بچنے کے لیے غزہ سے بچ نکلنے کی کوشش کرنا ہوگا، اس دوران شہری ہلاکتوں کی تعداد بھی بڑھے گی۔جنوبی غزہ میں اسرائیلی بمباری میں اضافہ دور روز قبل اس وقت ہوا جب اسرائیل نے ایک ہی رات میں جنوبی غزہ میں 200 مقامات پر بمباری کی۔ بتایا گیا ہے کہ ان اسرائیلی حملوں کی زد میں حماس کے اسلحہ ڈپو بھی آئے۔واضح رہے امریکہ اور یورپ حماس کے بارے میں اسرائیل کےساتھ ایک ہی صفحے پر ہیں اسی لیے امریکہ اور یورپی ممالک نے حما س کو دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔
اسرائیل کے تازہ حملے جنوبی غزہ پر اسرائیل کے اس انتباہ کے بعد سامنے آئے جن میں اسرائیل نے جنوبی غزہ سے بھی لوگوں کو نکلنے کی ہدایات دیں۔ کہ اس علاقے کو بھی خالی کر دیں۔ اس سے قبل شمالی غزہ سے لوگوں کو نکل کر جنوبی غزہ کی طرف نقل مکانی کر جانے کو کہا گیا تھا۔پچھلے ہفتے کے اختتام سے امریکی حکام بشمول وزیر دفاع اور نائب صدر کملا ہیرس نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کی جنگ کے باعث عام شہریوں کی جانوں کی بہت بھاری قیمت چکانا پڑ رہی ہے۔واضح رہے غزہ میں پیر کے روز تک فلسطینیوں کی شہادتوں کی تعداد 15500 سے تجاوز کر چکی تھی، جبکہ ان میں ستر فیصد تعداد فلسطینی عورتوں اور بچوں کی ہے۔امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے ہفتے کے روز کیلیفورنیا میں خطاب کے دوران کہا تھا’ شہری علاقوں میں اس وقت جنگ نہیں جیتی جا سکتی جب تک شریوں کو تحفظ نہ ملے۔ شہریوں کو احساس تحفظ دے کر ہی جنگ جیتی جا سکتی ہے۔’ انہون نے عراق میں امریکی جنگ کی مثال بھی دی تھی۔امریکی نائب صدر کملا ہیرس نے اپنی ایک گفتگو میں یہی کہا ہے’ جس طرح اسرائیل غزہ میں اپنے جنگی اہداف حاصل کرنا چاہتا ہے ہم چاہتےہیں کہ وہ معصوم شہریوں کے تحفظ کے لیے مزید کوششیں کرے۔
ہندوستھان سماچار
