نئی دہلی، 23 نومبر (ہ س)۔
مرکزی مواصلات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیر اشونی ویشنو نے ‘ڈیپ فیک’ کو جمہوریت کے لیے ایک نیا خطرہ قرار دیا اور جمعرات کو کہا کہ حکومت جلد ہی اس سے نمٹنے کے لیے نئے اصول لائے گی۔ وزیر نے ‘ڈیپ فیک’ کے مسئلہ پر آج سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے نمائندوں سے ملاقات کی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر زور دیا کہ وہ اس معاملے میں احتیاط برتیں اور اس کا معقول حل تلاش کریں۔
اس کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اشونی ویشنو نے کہا کہ انہوں نے آج سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے نمائندوں کے ساتھ میٹنگ کی ہے۔ اس دوران ڈیپ فیک معاملے کا حل تلاش کرنے پر بات چیت ہوئی ہے اور اس کا حل تلاش کرنے کو کہا گیا ہے۔
وشنو نے کہا کہ میٹنگ میں ڈیپ فیک کی تحقیقات کیسے کی جائے، اسے وائرل ہونے سے کیسے روکا جائے، صارف کی طرف سے اس کی اطلاع کیسے دی جائے اور اس پر فوری کارروائی کیسے کی جائے، بشمول ڈیپ فیک کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کے بارے میں بات چیت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ڈیپ فیک ایک سنگین مسئلہ ہے۔ اس بارے میں آگاہی بہت ضروری ہے۔ ڈیپ فیک پر ایک نئے ضابطے کی ضرورت ہے۔ اس پر فوری کارروائی شروع کی جائے گی۔
قابل ذکر ہے کہ ویشنو نے حال ہی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ جو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ڈیپ فیک کے سلسلے میں مناسب قدم نہیں اٹھاتے ہیں انہیں آئی ٹی ایکٹ کے ‘سیف ہاربر’ امیونٹی سیکشن کے تحت تحفظ نہیں ملے گا۔ حکومت نے حال ہی میں ڈیپ فیک معاملے پر کمپنیوں کو نوٹس جاری کیا تھا اور ان سے جواب طلب کیا تھا۔ اب سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ڈیپ فیک کے مسائل کو سنجیدگی سے لینا ہوگا۔
حال ہی میں وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی ڈیپ فیک کے معاملے کو سنگین قرار دیتے ہوئے خبردار کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔ وزیر اعظم مودی نے کہا تھا کہ ان کا ایک ڈیپ فیک ویڈیو وائرل ہوا ہے۔ اس میں وہ گربا کر رہے تھے لیکن وہ ویڈیو ان کی نہیں تھی۔ انہوں نے اسکول کے بعد کبھی گربا نہیں کھیلا۔
ہندوستھان سماچار
