کاٹھمنڈو، 19 نومبر (ہ س)۔ نیپال کی حکومت نے مسلمانوں کے سالانہ مذہبی اجتماع اجتماع پر پابندی عائد کر دی ہے۔ مذہبی حساسیت کا حوالہ دیتے ہوئے نیپال کی وزارت داخلہ نے یہ فیصلہ لیا ہے۔ نیپال حکومت نے اجتما کے لیے لگائے گئے خیموں اور باہر سے آنے والے لوگوں کو 24 گھنٹے کے اندر جگہ خالی کرنے کی ہدایت کی ہے۔
نیپال کے مشرقی حصے میں واقع سنساری ضلع کے دوہابی اور اٹہاری میں 21 سے 23 نومبر تک اجتماع کی تیاریاں کی جا رہی تھیں۔ اس کے لیے 80 ایکڑ اراضی پر خیمے لگائے گئے تھے جس میں تقریباً 50 ہزار افراد کے رہنے اور بیٹھنے کا انتظام کیا گیا تھا۔ اس اجتماع کے لیے دنیا کے کئی ممالک سے مسلمانوں کو مدعو کیا گیا تھا۔ مذہبی طور پر حساس ضلع سنساری میں مسلمانوں کے اتنے بڑے اجتماع سے نہ صرف نیپال میں مذہبی جذبات بھڑکنے کا خدشہ تھا بلکہ سیکورٹی کے پیش نظر اس پر پابندی بھی لگا دی گئی تھی کیونکہ یہ ہندوستانی سرحد سے متصل ہے۔
سنساری کے چیف ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ہمکلا پانڈے نے مسلمانوں کے اس مذہبی پروگرام کے حوالے سے وزارت داخلہ کو ایک خط لکھا تھا، جس میں ان تمام چیلنجوں کا ذکر کیا تھا اور اس پر رائے مانگی تھی۔ وزارت داخلہ نے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے اس پروگرام کو کسی بھی قیمت پر روکنے کی ہدایات جاری کیں۔ ضلع مجسٹریٹ پانڈے نے کہا کہ وزارت داخلہ کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے منتظمین کو پروگرام کو روکنے کے لیے تحریری ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
سنساری کے چیف ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے ہفتہ کے روز ضلع کے سیکورٹی اہلکاروں کے ساتھ مقام کا دورہ کیا۔ اس دوران انہوں نے اجتماع کے لیے لگائے گئے خیمہ کو فوری طور پر ہٹانے کی ہدایت کی۔ علاوہ ازیں باہر سے اجتماع میں آنے والے افراد کو بھی 24 گھنٹے میں ضلع چھوڑنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ضلعی انتظامیہ کو اطلاع ملی تھی کہ اجتماع کے نام پر کچھ جنونی مسلم مذہبی رہنما اور مولانا آ رہے ہیں جن کے یہاں آنے پر بھارت سمیت کئی ممالک نے پابندی عائد کر رکھی ہے۔
ہندوستھان سماچار
