تل ابیب،15نومبر(ہ س)۔
اسرائیل کے وزیر خارجہ ایلی کوہن نے منگل کے روز کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیریس عالمی ادارے کی قیادت کرنے کے اہل نہیں ہیں۔ انہوں نے حماس کی مذمت کے لیے کچھ نہیں کیا۔ایلی کوہن نے جنیوا میں پریس کانفرنس میں مزید کہا کہ ”گوٹیریس اقوام متحدہ کے سربراہ بننے کے لائق نہیں ہیں۔ وہ عالمی ادارہ صحت اور بین الاقوامی ریڈ کراس کے رہ نماو¿ں کے ساتھ ساتھ اسرائیلی یرغمالیوں کے لواحقین سے ملاقات کر رہے تھے۔
انہوں نے ان خیالات کا اظہار جنیوا میں اقوام متحدہ کی عمارت کے اندر ایک پریس کانفرنس میں کیا۔ یہ بیانات اس وقت سامنے آئے ہیں جب اقوام متحدہ نے غزہ کی پٹی میں اسرائیلی بمباری میں اپنے 100 سے زائد ملازمین کی ہلاکت پر سوگ منایا تھا۔دوسری طرف انتونیو گوتیریس نے غزہ کی پٹی میں خوفناک صورتحال اور بہت سے ہسپتالوں میں جانوں کے ضیاع پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن گوجریک نے مزید کہا کہ انسانیت کے نام پر سیکرٹری جنرل فوری طور پر انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہیں۔
اسرائیلی وزیر خارجہ نے یہ انکشاف کیا کہ ریڈ کراس نے غزہ کی پٹی میں حماس کے زیر حراست کسی قیدی سے ملاقات نہیں کی۔ انہوں نے منگل کو بین الاقوامی کمیٹی آف ریڈ کراس کے سربراہ سے ملاقات کے بعد بیانات انہوں نے کہا کہ قیدیوں کے معاملے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ایلی کوہن نے جنیوا میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ آج تک ہمارے کسی بھی یرغمالی نے ریڈ کراس سے ملاقات نہیں کی۔ ہمارے پاس اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ وہ زندہ ہیں۔قطری وزیر اعظم اور وزیر خارجہ الشیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم آل ثانی نے کل منگل کو کہا تھا کہ اسرائیل کی مسلسل بمباری قیدیوں کی رہائی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔
دریں اثنا حماس نے اسرائیل پر قطری ثالثی کے ذریعے ہونے والے مذاکرات میں تاخیر کرنے کا الزام لگایا جس کا مقصد جنگ بندی کے بدلے درجنوں قیدیوں کو رہا کرنا تھا۔حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ نے ایک آڈیو ریکارڈنگ میں کہا ہے کہ اسرائیل نے اپنے 100 قیدیوں کی رہائی کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے ثالثوں کو بتایا کہ وہ پانچ روزہ جنگ بندی میں کچھ قیدیوں کو رہا کر سکتے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
