نئی دہلی، 12 نومبر (ہ س)۔ قومی راجدھانی دہلی-این سی آر میں چار دن پہلے ہوئی بارش کی وجہ سے یہاں ہوا میں گھولے زہر کا اثر کافی حد تک کم ہو گیا ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں مجموعی طور پر ہوا کے معیار کے انڈیکس (اے کیو آئی) میں کوئی ایسا اضافہ نہیں ہوا ہے، جو بحران کو مزید گہرا کر سکتا ہے۔ اس کے باوجود دارالحکومت کی ہوا کے معیار کو اچھا نہیں کہا جا سکتا۔ کل کی طرح آج (بھی) یہ خراب کے زمرے میں ہے۔
مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ کے مطابق، آج صبح دہلی کے آنند وہار میں اے کیو آئی 266، آر کے پورم میں 241، پنجابی باغ میں 233 اور آئی ٹی او میں 227 تھا۔ کل صبح دہلی کے آنند وہار میں 282، آر کے پورم میں 220، پنجابی باغ میں 236 اور آئی ٹی او میں 263 ریکارڈ کیا گیا تھا۔
یہ سب جمعرات کی رات ہوئی بارش کا اثر ہے۔ جس کی وجہ سے لوگوں نے راحت کی سانس لی ہے۔ ورنہ عدالت کے سخت ریمارکس سے ناراض دہلی حکومت مصنوعی بارش کی تیاری کر رہی تھی۔ لیکن اس سے پہلے قدرت نے مورچہ سنبھال لیا اور راحت کی پھوہاروں سے ہوا کو سانس لینے کے قابل بنا دیا۔ بورڈ کا کہنا ہے کہ آج این سی آر کے بڑے شہروں میں ہوا کا معیار درمیانی زمرے میں ہے۔ دہلی-این سی آر میں ہوا کے معیار کی سطح اتوار کی صبح 263 پر آ گئی ہے۔ جمعہ کو یہ 300 تھی۔
دریں اثنا، مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ نے واضح کیا ہے کہ شمال مغرب سے چلنے والی ہوا کی وجہ سے آلودگی کی سطح بڑھ سکتی ہے۔ اس لیے دیوالی کے دوران یعنی آج دہلی میں ہوا کا معیار انتہائی خراب زمرے میں پہنچ سکتا ہے۔ اگلے دن پیر کو ہوا کے معیار کا انڈیکس 400 پوائنٹس سے تجاوز کر سکتا ہے۔ اس وجہ سے 13 اور 14 نومبر کو ہوا کا معیار سنگین زمرے میں رہنے کا امکان ہے۔
ان سب کے درمیان نیشنل گرین ٹریبونل نے دہلی-این سی آر میں ہوا کے معیار سے متعلق رپورٹوں پر مختلف ایجنسیوں کے دعووں پر سوال اٹھائے ہیں۔ گرین ٹریبونل نے کہا ہے کہ زمینی سطح پر نتائج غیر تسلی بخش ہیں۔ چیئرمین جسٹس پرکاش شریواستو، عدالتی رکن سدھیر اگروال اور ماحولیات کے رکن اے سینتھل ویل کی بنچ نے کہا کہ ایجنسیوں کو اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ بنچ نے ایئر کوالٹی مینجمنٹ کمیشن اور بورڈ (جواب دہندگان) سے کہا ہے کہ وہ 20 نومبر کو ہونے والی اگلی سماعت سے پہلے کارروائی کی رپورٹ پیش کریں۔
ہندوستھان سماچار//سلام
