مرکز اور جموں و کشمیر حکومت اپنے ہی ملازمین سے خوفزدہ: وقار رسول وانی
جموں، 6 نومبر (ہ س)۔ جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر وقار رسول وانی نے کہا ہے کہ مرکز اور یو ٹی انتظامی اپنے ہی ملازمین کے پرامن احتجاج سے خوفزدہ ہے اور ان کے جمہوری حقوق پر پابندی لگا رہی ہے تاکہ وہ بروقت تنخواہ، جی پی ایف کے علاوہ دیگر واجبات کا مطالبہ نہ کر سکیں۔ وانی نے حکومت کے اس فیصلے کو انتہائی غیر جمہوری قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ لوگ بی جے پی کی غلط حکمرانی سے تنگ آچکے ہیں اور جب انتخابات ہوں گے تو اسے تمام طبقات کے لوگوں کے غصے کا سامنا کرنا پڑے گا جبکہ کانگریس جموں خطہ سمیت عوام کی پہلی پسند بن کر ابھری ہے۔ سانبہ ضلع کے رام گڑھ میں کانگریس کی ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے وقار رسول وانی نے نو سال سے زیادہ عرصے سے مختلف محاذوں پر بدانتظامی کی وجہ سے سماج کے ہر طبقے کو سب سے زیادہ تکلیف کا سامنا کرنے پر بی جے پی پر تنقید کی۔
انہوں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ حکومت اپنے ہی ملازمین سے خوفزدہ ہے اور انہیں پرامن طریقے سے تین ماہ کی تنخواہ، جی پی ایف، اجرت اور ریگولرائزیشن کے حصول سے روکنے کے لیے ان پر پابندی عائد کر دی ہے۔ کیا یہ گڈ گورننس ہے اور جمہوریت کہاں رہ گئی ہے؟ وانی نے کہا کہ نو سال سے زیادہ عرصے سے اپنے نمائندوں کو منتخب کرنے کے حق سے انکار پر لوگ انتہائی مشتعل ہیں جبکہ پنچایت اور یو ایل بی انتخابات کے التوا نے بھی لوگوں کے غصے میں اضافہ کیا ہے۔ بی جے پی پراکسی کے ذریعے حکومت کرنا چاہتی ہے کیونکہ وہ الیکشن میں اپنی قسمت جانتی ہے۔
اے آئی سی سی کے سکریٹری منوج یادو نے بی جے پی کی آمرانہ ذہنیت پر تنقید کی اور اِن پر انتقامی سیاست سے ملک میں جمہوری ماحول کو تباہ کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت اپوزیشن اور اختلاف رائے سے خوفزدہ ہے اور ایجنسیوں کے غلط استعمال سے خوف پیدا کرنے کا ہر طریقہ آزما رہی ہے لیکن یہ جمہوریت مخالف ہے۔ لوگ ہر جگہ تبدیلی لائیں گے اور ہندوستانی اتحاد جیت کر ابھرے گا۔
کانگریس کے کارگزار صدر رمن بھلا نے کہا کہ سرحدی علاقے کے لوگ مسلسل پاک گولہ باری سے خوف میں مبتلا ہیں اور حکومتی عدم توجہی کا شکار ہیں۔ انہوں نے سرحدی علاقوں اور فوج میں کئی قربانیاں دیں اور قوم کا دفاع کیا لیکن زراعت کے کاموں میں اِن کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن حکومت ان کے بچّوں کے لیے خصوصی بھرتی کرنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان میں سے زیادہ تر 1947، 1965 اور 1971 کے پناہ گزین ہیں لیکن بی جے پی نے 2014 میں کانگریس حکومت کے تیار کردہ مکمل پیکج کو منظور نہ کر کے ان کے ساتھ دھوکہ کیا۔
ہندوستھان سماچار
/شہزاد
