تل ابیب/یروشلم/دمشق/ماسکو، 30 اکتوبر (ہ س)۔ رواں ماہ کی 07تاریخ کو فلسطینی جنگجوتنظیم حماس کے اسرائیل پرکئے گئے حملے کے بعد غزہ پٹی سمیت کئی ممالک جنگ کے شعلوں میں جل رہے ہیں۔ اتوار کو گولان کی پہاڑیوں کی جانب راکٹ حملے کے جواب میں اسرائیلی فضائیہ نے رات گئے جنوبی شام میں فوجی اہداف پر بڑے پیمانے پر حملے کیے ہیں۔ اسی دوران اسرائیل کی زمینی اور فضائی افواج شمالی غزہ میں تباہی مچا رہی ہیں۔ آج (پیر) کی صبح شمالی غزہ میں کئی مقامات پر میزائل اور راکٹ داغے گئے۔ ادھر روس نے اپنا ایک ہوائی اڈہ 6 نومبر تک بند کر دیا ہے۔ یہ اطلاع میڈیا رپورٹس میں دی گئی ہے۔
بعض رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ شام کے دارالحکومت دمشق میں اسرائیل کے تازہ حملوں سے نمٹنے کی حکمت عملی طے کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ اسرائیل نے غزہ پٹی پر زمینی حملہ نہ کرنے کی عالمی اپیل کو مسترد کر دیا ہے۔ اسرائیلی فوج غزہ پٹی میں موجود حماس کے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو مسلسل تباہ کر رہی ہے۔ حماس کے زیر کنٹرول غزہ کی وزارت صحت نے دعویٰ کیا ہے کہ 7 اکتوبر سے غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد 8000 سے تجاوز کر گئی ہے۔ ان میں 3,342 بچے شامل ہیں۔
روس نے داغستان ہوائی اڈہ بند کیا
ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اتوار کو روس کے قفقاز جمہوریہ کے داغستان میں اسرائیلی شہریوں اور یہودیوں کو تلاش کرنے والے ایک ہجوم نےکے مرکزی ہوائی اڈے پر قبضہ کر لیا۔ ہجوم کو خدشہ تھا کہ اسرائیل سے کوئی پرواز آرہی ہے۔ اس واقعے کے بعد روس کی ایوی ایشن ایجنسی نے کہا ہے کہ ہجوم کے حملے کے بعد داغستان کا مرکزی ہوائی اڈہ 6 نومبر تک بند رہے گا۔
شمالی اسرائیل کے حیفا میں دھماکہ:
ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ شمالی اسرائیل کے سب سے بڑے شہر حیفا میں آج صبح ایک دھماکہ ہوا۔ اسرائیل کی دفاعی افواج کا کہنا ہے کہ شام سے داغے گئے راکٹ اور میزائل کھلے علاقوں میں گرے۔ اس سے کوئی نقصان نہیں ہوتا۔
حماس غیر ملکی شہریوں کو مصر جانے کی اجازت نہیں دے رہا:
اس جنگ کے درمیان وائٹ ہاو¿س کے چیف سیکورٹی ایڈوائزر جیک سلیوان نے کہا ہے کہ مصر غزہ چھوڑنے کے خواہشمند امریکیوں اور دیگر غیر ملکی شہریوں کو راستہ دینے کے لیے تیار ہے لیکن حماس اس میں رکاوٹیں کھڑی کر رہاہے۔ حماس ان لوگوں کو غزہ سے باہر جانے نہیں دے رہا۔ وہ اس کے لیے مطالبہ رکھ رہا ہے۔
حماس کے زوال کے بعد اسرائیلی منصوبہ:
ایک اور رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ غزہ میں حماس کے زوال کے بعد اسرائیل نے اپنے شہریوں کو مصر کے جزیرہ نما سینائی منتقل کرنے کے منصوبے کو حتمی شکل دے دی ہے۔ یہ علاقہ 1982 سے 2000 تک اسرائیلی افواج کے قبضے میں رہا لیکن مصر نے اسرائیل کے اس منصوبے پر سخت اعتراض ظاہر کیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
