نئی دہلی، 29 اکتوبر (ہ س)۔ دہلی کمیشن برائے خواتین (ڈی سی ڈبلیو) کو ایک شخص کی جانب سے انٹرنیٹ پر ہندو دیوتاؤں کی قابل اعتراض تصاویر فروخت کرنے کی شکایت موصول ہوئی ہے۔ شکایت کنندہ نے الزام لگایا ہے کہ کچھ لوگ ہندو دیوتاؤں کی فحش تصاویر آن لائن فروخت کر رہے ہیں۔ شکایت کنندہ نے الزام لگایا ہے کہ اسے اس سلسلے میں کچھ ای میلز موصول ہو رہی ہیں۔ مبینہ ای میل میں دیوی دیوتاؤں کی کچھ تصاویر بھی ہیں جن کو فحش انداز میں دکھایا گیا ہے۔
ڈی سی ڈبلیو کی چیئرپرسن سواتی مالیوال نے اس معاملے میں دہلی پولیس کو نوٹس جاری کیا ہے اور کارروائی کی رپورٹ طلب کی ہے۔ ڈی سی ڈبلیو نے کیس میں گرفتار ملزمان کی تفصیلات کے ساتھ ایف آئی آر کی کاپی مانگی ہے۔ ڈی سی ڈبلیو نے مذکورہ مواد کو انٹرنیٹ سے ہٹانے اور اسے گردش کرنے سے روکنے کے لیے دہلی پولیس کے اقدامات کی تفصیلات بھی طلب کی ہیں۔
سواتی مالیوال نے کہا، یہ عمل انتہائی توہین آمیز ہے اور مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچاتا ہے اور گروہوں کے درمیان دشمنی پیدا کرتا ہے۔ یہ بہت سنجیدہ معاملہ ہے۔ اس معاملے میں فوری طور پر ایف آئی آر درج کرکے ملزمان کو گرفتار کیا جائے۔ قابل اعتراض مواد کو فوری طور پر انٹرنیٹ سے ہٹا دیا جانا چاہیے۔‘‘
ہندوستھان سماچار
