فرینکفرٹ ، 21 اکتوبر(ہ س)۔
ہفتہ کو ساہتیہ اکادمی نے جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں منعقد ہونے والے دنیا کے سب سے بڑے کتاب میلے میں ’آئیڈیا آف انڈیا‘ کے عنوان سے ایک سمپوزیم کا اہتمام کیا۔ ساہتیہ اکادمی کے صدر مادھو کوشک نے اپنے بیان میں کہا کہ تاریخ میں مختلف لوگوں کے ہندوستان کے بارے میں مختلف خیالات تھے۔ اشاعت اور ترجمہ میں بڑے پیمانے پر اضافے کے بعد ہندوستان کی اصلی تصویر دنیا کے سامنے آگئی ہے۔ دیگر مقررین نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان سے باہر کے لوگوں نے ہندوستان کے بارے میں مختلف ممالک کی تاریخ کی کتابوں ، سفرناموں ، فلسفیانہ ادب وغیرہ کے ذریعے معلومات حاصل کیں جو حقیقت سے بہت دور تھیں۔
سمپوزیم میں ساہتیہ اکادمی کے صدر مادھو کوشک کے ساتھ نیشنل بک ٹرسٹ کے صدر ملند سدھاکر مراٹھے ، اکادمی کے نائب صدر کمود شرما اور اکادمی جنرل کونسل کے رکن نریندر بی۔ پاٹھک نے شرکت کی۔ اکادمی کے سکریٹری ڈاکٹر کے۔ سری نواسراو¿ نے کہا کہ ہندوستان کے بارے میں خیالات مختلف طریقوں سے ادبی کاموں میں جھلکتے رہے ہیں ، جو زیادہ معتبر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نہ صرف غیر ملکی بلکہ ہندوستان کے مختلف خطوں اور برادریوں کے لوگ بھی صدیوں سے ہندوستان کے بارے میں مختلف نظریات رکھتے ہیں۔
ایک دن پہلے جمعہ کو ساہتیہ اکادمی نے ’ہندوستانی ادب کا ورثہ‘کے عنوان سے ایک سمپوزیم کا اہتمام کیا تھا۔ اس دوران ساہتیہ اکادمی کے صدر کوشک نے ہندوستانی ادب کی خصوصیات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہماری مذہبی اور فلسفیانہ تحریروں کو چھوڑ کر زیادہ تر ہندوستانی ادب کا دنیا کی دوسری زبانوں میں ترجمہ نہیں ہوا ہے جو کہ بہت اہم ہے۔ یہ ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔نیشنل بک ٹرسٹ کے چیئرمین ملند مراٹھے نے ہندوستانی ادب کی قدیمی ، اس کی فراوانی اور اس کے تنوع پر گفتگو کرتے ہوئے اسے جامع ادب کی ایک اور مثال قرار دیا۔ اکادمی کے نائب صدر کمود شرما نے کہا کہ ہم نے اس کتاب میلے میں صرف اس لیے حصہ لیا ہے تاکہ دنیا کو ہندوستانی ادب کی عمدگی سے متعارف کرایا جا سکے۔ڈاکٹر سری نواسراو¿ نے کہا کہ ہندوستانی ادب نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری زمین کی بھلائی کا خواہاں ہے۔ اس دوران ڈاکٹر سری نواسراو¿ نے بتایا کہ اب تک نیوزی لینڈ ، برطانیہ ، امریکہ، کینیڈا ، چین اور بنگلہ دیش کے نمائندوں نے ساہتیہ اکادمی کی کتابوں کے ترجمے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ پولش اور اسرائیلی زبان کے کچھ پبلشرز نے بھی رابطہ کیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ 18 سے 22 اکتوبر تک جاری رہنے والے اس دنیا کے سب سے بڑے کتاب میلے میں 100 سے زائد ممالک سے ہزاروں پبلشرز ، ایجنٹس ، لائبریرین اور مصنفین وغیرہ جمع ہوئے ہیں۔ یہ کتاب میلہ پوری دنیا کے کتاب پبلشرز کو بین الاقوامی سطح پر مختلف ممالک اور زبانوں میں کتابوں کے حقوق اور لائسنس فروخت کرنے کے لیے ایک آسان پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے۔ یہ کتاب میلہ فرینکفرٹ میں ہر سال منعقد کیا جاتا ہے۔
ہندوستھان سماچارمحمدخان
