طرسکزم20اکتوبر(ہ س)۔
یورپی کونسل کے صدر چارلس مشیل نے جمعرات کو کہا کہ وہ ہفتے کے روز مصر کا دورہ کریں گے اور ایک ایسے ملک کی حمایت کا مطالبہ کریں گے جسے جنگ زدہ غزہ سے فرار ہونے والے دسیوں ہزار فلسطینیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔جمعہ کو امریکی صدر جو بائیڈن اور یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لاین کے ساتھ ایک سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے واشنگٹن میں موجود مشیل نے کہا، مصر کو حمایت کی ضرورت ہے تو آئیے مصر کی حمایت کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ ہفتے کے آخر میں اپنے دورے کے دوران مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے ملاقات کریں گے۔ان کی ترجمان ایکٹرینا کیسنگ نے کہا کہ وہ اس کے علاوہ السیسی کی دعوت پر شرقِ اوسط میں موجودہ پیش رفت، فلسطین اور امن عمل سے متعلق ایک کانفرنس میں شرکت کریں گے۔کیسنگ نے کہا کہ مشیل کے ساتھ مصر میں یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزپ بوریل ہوں گے۔وان ڈیر لاین نے ہفتے کے شروع میں تیرانا میں اعلان کیا تھا کہ یورپی یونین غزہ کی پٹی تک انسانی فضائی راہداری کھولے گی۔مشیل نے صدر بائیڈن کی بھرپور حمایت کی جنہوں نے بدھ کو اسرائیل کا دورہ کیا اور کہا کہ انہوں نے قاہرہ سے انسانی امداد لے جانے والے تقریباً 20 ٹرکوں کو جانے کی اجازت حاصل کی اور بین الاقوامی قانون کے مطابق اسرائیل کے اپنے دفاع کے حق کے لیے یورپی یونین کی حمایت کا اعادہ کیا۔اسرائیلی فوج اور غزہ کی عسکریت پسند تحریک حماس غزہ کے اہلی عرب ہسپتال پر مہلک حملے کا الزام ایک دوسرے پر عائد کر رہے ہیں۔
مصری میڈیا نے جمعرات کو اطلاع دی ہے کہ غزہ کی پٹی میں پھنسے فلسطینیوں کے لیے جس انسانی امداد کا طویل عرصے سے انتظار ہے وہ جمعے کو روانہ ہونے والی ہے جو اسرائیل اور حماس کے درمیان مہلک جنگ کا 13 واں دن ہے۔ یہ جنگ 7 اکتوبر کو فلسطینی گروپ کے اسرائیل پر حملے سے شروع ہوئی تھی۔یورپی رہنما نے مصر میں پناہ گزینوں کی بڑی تعداد میں ممکنہ آمد سے درپیش چیلنج پر زور دیا اور کہا کہ وہ جمعہ کو واشنگٹن میں ہونے والی ایک امریکی-یورپی سربراہی کانفرنس میں اس موضوع پر معلومات کے اہم تبادلے کی توقع رکھتے ہیں۔اس سوال پر کہ کیا یورپ یک آواز ہے تو انہوں نے جواب دیااس کا جواب ہاں میں ہے اور منگل کی شام کو ایک ویڈیو کانفرنس کے دوران یورپی رہنماو¿ں کی طرف سے ظاہر کردہ متفقہ پوزیشن کا حوالہ دیا۔یورپی کمیشن کی صدر کے حالیہ دورہ اسرائیل کے دوران بھیجے گئے پیغام پر تنقید کا ایک سلسلہ تھا جس کے بعد یورپی پوزیشن کو واضح کرنا اس غیر رسمی یورپی سربراہی اجلاس کا مقصد تھا۔جمعرات کو واشنگٹن میں ہڈسن انسٹی ٹیوٹ کے تھنک ٹینک کو ایک تقریر میں وون ڈیر لاین نے کہا، ہم اسرائیل کے ساتھ ہیں اور یہ بات دہرائی کہ حماس کی طرف سے ہونے والے خوفناک حملے کے سامنے قوم کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔
ہندوستھان سماچار
