پولیس حراست میں نوجوان کی موت کے خلاف سرنکوٹ میں احتجاج، سی بی آئی انکوائری کا مطالبہ
جموں، 19 اکتوبر (ہ س)۔ جموں و کشمیر کے سرحدی ضلع پونچھ کے مرہوت سے تعلق رکھنے والے متوفی الفت حسین کے اہل خانہ، رشتہ داروں اور گاؤں والوں نے سرنکوٹ میں احتجاجی مظاہرہ کیا اور حراست میں موت کے معاملے کی سی بی آئی انکوائری کا مطالبہ کیا۔ متوفی کے اہل خانہ، ان کے رشتہ داروں اور گاؤں والوں کی حمایت میں عید گاہ گراؤنڈ سرنکوٹ میں بڑی تعداد میں جمع ہوئے اور احتجاجی دھرنا شروع کیا۔ ضلع پولیس پونچھ کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے وہ معاملے کی سی بی آئی انکوائری کا مطالبہ کر رہے تھے۔
انہوں نے پولیس اسٹیشن سرنکوٹ میں پولیس حراست میں نوجوان الفت حسین ولد لال حسین سکنی مرہوت کی پراسرار موت کو صریح قتل قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں تفتیش کے حوالے سے مقامی پولیس پر کوئی بھروسہ نہیں ہے۔ انہوں نے اس معاملے کی سی بی آئی انکوائری کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اس فعل کے ذمہ داروں کو گرفتار کیا جائے اور ان کے خلاف سخت قانون کے تحت مقدمہ درج کیا جائے۔
لواحقین نے الزام عائد کیا کہ الفت کو کسی سازش کے تحت پولیس نے جھوٹے مقدمے میں پھنسایا اور گرفتار کیا۔ پولیس کی حراست میں اسے شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور بعد میں پولیس اسے خودکشی کا معاملہ قرار دینے کی کوشش کر رہی تھی۔ جب وہ پولیس لاک اپ میں تھا تو پولیس کے دعوے کے مطابق یہ سب کیسے ہوا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایس ایچ او اور دیگر پولیس اہلکاروں کو معطل کیا جائے کیونکہ وہ منصفانہ تفتیش کو متاثر کریں گے۔
قابل ذکر ہے کہ متوفی الفت حسین ولد لال حسین کو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی دستاویز کے مطابق سرنکوٹ پولیس نے ایف آئی آر نمبر 314/2023، زیر دفعہ 366 اور 376 آئی پی سی میں ملوث کیا تھا لیکن پولیس حراست میں اس کی موت ہوگئی۔ اہل خانہ نے معاملے کی منصفانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا اور اس کے بعد ضلع مجسٹریٹ پونچھ نے اس معاملے کی مجسٹریٹ انکوائری کا حکم دیا اور ایس ڈی ایم مینڈھر کو ہدایت دی کہ وہ تھانہ سرنکوٹ میں الفت حسین کی مشتبہ موت کے نتیجے میں ہونے والے حالات کی مکمل جانچ کر کے تفصیلی رپورٹ پیش کریں۔
ہندوستھان سماچار
/شہزاد
