ہندوستان 2027 تک تیسری سب سے بڑی معیشت والا ملک ہوگا
نئی دہلی، 18 اکتوبر (ہ س)۔
امریکی ملٹی نیشنل فنانشل سروسز کمپنی جے پی مورگن کا خیال ہے کہ ہندوستانی معیشت کا حجم 2030 تک بڑھ کر 7 ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔ جے پی مورگن کے ایشیا پیسیفک ایکویٹی ریسرچ ڈائریکٹر جیمز سلیو ن کا ماننا ہے کہ ہندوستان میں 2027 تک دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بننے کی صلاحیت ہے۔
ایک نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے سلیو ن نے کہا کہ ہندوستان کی معیشت میں مسلسل ترقی کا امکان ہے۔ اگر سب کچھ ٹھیک رہتا ہے اور کوئی بڑی تباہی نہیں ہوتی ہے تو ہندوستانی معیشت اگلے 7 سالوں میں 7 ٹریلین ڈالر کی سطح تک پہنچ سکتی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ 2019 میں ہی وزیر اعظم مودی نے اگلے 5 سالوں کے دوران ہندوستانی معیشت کے حجم کو پانچ ٹریلین ڈالر کی سطح تک لے جانے کا ہدف رکھا تھا۔ تاہم پوری دنیا کی طرح ہندوستانی معیشت بھی کورونا وبا کی وجہ سے زبوں حالی کا شکار ہوگئی۔ لیکن عالمی کمزوری کے باوجود ہندوستانی معیشت دوبارہ مضبوط ہوئی۔
جیمز سلیوان کے مطابق ہندوستان میں مینوفیکچرنگ سیکٹر میں زبردست ترقی متوقع ہے۔ اس وقت ہندوستان کی جی ڈی پی میں مینوفیکچرنگ سیکٹر کا حصہ تقریباً 17 فیصد ہے۔ لیکن جلد ہی اس میں 25 فیصد تک اضافہ متوقع ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو بھارت سے برآمدات ایک ٹریلین ڈالر کی سطح کو عبور کر سکتی ہیں۔ اس وقت ہندوستان سے برآمدات 50 ہزار کروڑ ڈالر سے کم ہیں۔ سلیوان نے کہا کہ مینوفیکچرنگ سیکٹر ہندوستان کی جی ڈی پی بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
سلیوان کے مطابق، طویل مدت میں ہندوستانی معیشت کے مجموعی ڈھانچے میں اہم تبدیلیوں کی توقع ہے، جس سے کئی شعبوں کے لیے ترقی کے بڑے مواقع مل سکتے ہیں۔ اس بنیاد پر جے پی مورگن نے ہندوستان کے ایک مضبوط معیشت بننے کا امکان ظاہر کیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
