

تصادم میں دو تھانہ انچارج سمیت 10 پولیس اہلکار زخمی
ریوا، 18 اکتوبر (ہ س)۔
مزدور پر حملہ کے خلاف بدھ کو شہر کے ڈھیکہہ چوراہے پر جم کر ہنگامہ ہوا۔ مشتعل مزدوروں نے سڑک پر آکر سڑک کو بلاک کردیا۔ گاڑی میں بھی آگ لگا دیا۔ اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچی، جہاں انہوں نے پہلے زخمی مزدور کو اسپتال بھیجنے اور جام کھولنے کا کہا، لیکن مزدوروں نے کوئی بات نہیں سنی۔ مزدور زخمی کو سڑک کے بیچوں بیچ لٹا کر روڈ بلاک کئے ہوئے تھے۔ پولیس نے لاٹھی چارج کیا تو مزدوروں نے پولیس اہلکار پر حملہ کر دیا اور پتھراو کیا۔ جس کی وجہ سے کئی پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔ ریوا میں تقریباً ڈھائی گھنٹے تک کشیدہ صورتحال رہی۔
معلومات کے مطابق بدھ کی صبح 10 بجے سول لائن تھانہ علاقے میں آستھا میڈیکل اسٹور کے سیکورٹی گارڈ کے ساتھ ایک مزدور کی جھڑپ ہوئی۔ افواہیں پھیل گئیں کہ مزدور کو چاقو سے حملہ کرکے قتل کر دیا گیا ہے، جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ گارڈ نے مزدور کو چابی کے چھلے سے مارا تھا۔ افواہ سنتے ہی 500 سے زیادہ مزدور ڈھیکہہ چوراہے پر جمع ہوگئے۔ انہوں نے میڈیکل اسٹور کے مالک کی گاڑی میں آگ لگا دی۔ دکان پر پتھراو کر دیا۔ کچھ دیگر دکانوں میں بھی توڑ پھوڑ کی گئی۔ کارکنوں نے ڈھیکہہ چوراہے کو بلاک کر دیا۔
تھانہ سول لائن سے پولیس پہنچی لیکن مزدوروں کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ پولیس نے لاٹھی چارج کرکے بھیڑ کو منتشر کردیا، لیکن کچھ مزدوروں نے پولیس پر پتھراو کر دیا۔ لاٹھیوں سے بھی حملہ کیا۔ تصادم میں سمان تھانہ انچارج جے پی پٹیل، کوتوالی تھانہ انچارج روپلال اوئیکے سمیت 10 پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔ کچھ مزدور بھی زخمی ہوئے ہیں۔ بعد ازاں قریبی تھانوں سے پولیس کی بڑی تعداد موقع پر پہنچ گئی۔ بھارت تبت بارڈر پولیس (آئی ٹی بی پی) کے اہلکاروں نے چارج سنبھال لیا۔ تب ہی صورتحال پر قابو پایا جاسکا۔
ریوا کے پولیس سپرنٹنڈنٹ وویک سنگھ نے کہا کہ مزدور ہر صبح ڈھیکہہ چوراہے پر جمع ہوتے ہیں۔ بدھ کو بھی یہاں 250 سے 300 مزدور جمع تھے۔ اس کا سیکورٹی گارڈ سے جھگڑا ہو گیا۔ اس کے بعد مزدوروں کی تعداد 400 سے بڑھ کر 500 ہو گئی۔ انہوں نے پتھراو کر دیا۔ دکانوں کو بھی نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ گاڑی کو جلا دیا۔ پولیس پر بھی حملہ کیا۔ صورتحال اب قابو میں ہے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج اور ویڈیو ریکارڈنگ کی بنیاد پر ملزمان کی شناخت کرکے کارروائی کی جائے گی۔
ہندوستھان سماچار/
/عطاءاللہ
