اندور، 17 اکتوبر (ہ س)۔
اندور میں گیس اتھارٹی آف انڈیا لمیٹڈ۔ (گیل) کا ایک انجینئر لاپتہ ہے۔ منگل کی صبح اس کی کار شپرا ندی کے کنارے سے ملی تھی۔ اہل خانہ نے ندی میں چھلانگ لگا کر خودکشی کرنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ کار میں سے ایک پرس اور پانچ سطروں پر مشتمل ایک خودکشی نوٹ ملا ہے۔ خودکشی نوٹ میں کمپنی کے ڈی جی ایم پر تشدد کرنے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ ایس ڈی آر ایف کی ٹیم اور پولیس ندی میں تلاش کر رہی ہے۔
اندور کے لسوڈیا پولیس اسٹیشن کے مطابق گلاب باغ کالونی کے رہنے والے ونود ولد رام پرساد شرما گیل میں سینئر انجینئر کے عہدے پر تعینات ہیں۔ وہ پیر کی سہ پہر اپنی کار میں گھر سے نکلے تھے۔ جب وہ دیر رات تک گھر نہیں پہنچے تو ان کے گھر والوں نے پولیس کو ان کی گمشدگی کی اطلاع دی۔ اس کے بعد پولیس نے ان کی تلاش شروع کردی۔
منگل کی علی الصبح ان کی سلور رنگ کی کار تقریباً شپرا ندی کے کنارے سے ملی۔ پولیس نے کار کی تلاشی لی تو ایک خودکش نوٹ برآمد ہوا۔ خودکشی نوٹ میں اس نے گیل کمپنی کے ڈی جی ایم پر اسے ذہنی طور پر ہراساں کرنے کا الزام لگایا ہے۔ پولیس غوطہ خوروں اور ایس ڈی آر ایف ٹیم کی مدد سے ندی میں ونود کی تلاش میں مصروف ہے۔
سوسائڈ نوٹ میں انہوں نے لکھا ہے کہ میں، ونود کمار شرما، پورے ہوش و حواس میں لکھ رہا ہوں کہ منیش پرساد (ڈی جی ایم گالے پتھم پور) میری موت کا ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے مجھے ذہنی طور پر بہت ٹارچر کیا ہے۔ اس پانچ سطری خط کے نیچے ونود کمار شرما کے دستخط ہیں۔ خط پر 16 اکتوبر کی تاریخ لکھی ہے۔ ونود کی ایک بیٹی ہے جو انجینئر ہے۔ بیٹا صحت کی وجہ سے گھر ہی رہتا ہے۔
ہندوستھان سماچار//محمد
