انڈیا اتحاد میں شامل کانگریس اور ایس پی آمنے سامنے
لکھنؤ، 16 اکتوبر (ہ س)۔ اتر پردیش میں اپوزیشن کا کردار نبھانے والی سماج وادی پارٹی (ایس پی) مدھیہ پردیش کے اسمبلی انتخابات میں قسمت آزمانے کے لیے میدان میں اتری ہے۔ ایس پی نے انڈیا اتحاد میں شامل ہونے کی وجہ سے کانگریس سے کچھ سیٹوں کا مطالبہ کیا تھا جسے ریاست مدھیہ پردیش کے کانگریس لیڈروں نے نظر انداز کر دیا۔ اس کے بعد ایس پی کی کور کمیٹی کے ارکان نے مدھیہ پردیش میں 09 امیدواروں کو میدان میں اتارا۔ اس میں سے چار اسمبلی سیٹوں پر کانگریس کے امیدوار بھی کھڑے ہیں۔
مدھیہ پردیش میں ایس پی صدر اکھلیش یادو کی ہدایت پر اسمبلی سیٹوں پر امیدوار کھڑے کیے گئے ہیں، جن میں نیواڑی سے میرا یادو، راج نگر سے ببلو پٹیل، بھنڈر ریزرو سیٹ سے ڈی آر راہل اہیروار، دھوہانی ریزرو سیٹ سے وشوناتھ سنگھ مارکم، چترنگی ریزرو سیٹ سے شرون کمار سنگھ گودھ، سرموھر سے لکشمن تیواری، بیجاور سے ڈاکٹر منوج یادو، کٹنگی سے مہیش سہارے اور سیدھی سے رام پرتاپ سنگھ یادو کو میدان میں اتارا گیا ہے۔
اتر پردیش میں کانگریس اور ایس پی لیڈروں سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی
اترپردیش میں کانگریس کے ریاستی صدر اجے رائے کے عہدہ سنبھالنے کے بعد تمام سیاسی جماعتوں کے لیڈروں نے ان سے ملاقات کی۔ وہیں ایس پی کے سینئر لیڈروں نے اجے رائے سے ملنے کی کوشش نہیں کی۔ اس دوران کانگریس کی جانب سے اجے رائے نے بھی گھوسی ضمنی انتخاب میں ایس پی امیدوار کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔
ایس پی نے سپلیمنٹری لسٹ مانگی
ایس پی کے آفیشل ’ایکس‘ سے سپلیمنٹری لسٹ مانگی گئی ہے۔ مطالبہ کیا گیا کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کے نئے قوانین کے مطابق ووٹر لسٹ میں شامل، حذف یا ترمیم شدہ ناموں کی ضمنی فہرست سیاسی جماعتوں کو نہیں دی جائے گی۔ اسے الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر بھی اپ لوڈ نہیں کیا جائے گا۔ مذکورہ ضمنی فہرست سیاسی جماعتوں کو عام انتخابات 2022 سے قبل دی گئی تھی۔
ہندوستھان سماچار
/شہزاد
