اسٹیڈیم کی خوشی سے محصولات کے آنسو تک
فروری 2020 میں، بھارت اور امریکہ نے اپنی دوطرفہ تعلقات کی تاریخ کا سب سے بڑا شو منعقد کیا۔ اس تقریب کا نام نمستے ٹرمپ تھا۔ مقام: احمد آباد کا نیا موٹیرا اسٹیڈیم۔ فضا برقی تھی۔ ایک لاکھ سے زیادہ لوگ جھنڈے لہرا رہے تھے، نعرے لگا رہے تھے اور اس وقت کے امریکی صدر کے استقبال میں پرجوش تھے۔ وزیرِاعظم نریندر مودی نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک “بااعتماد دوست” کہا۔ ٹرمپ نے بھارت کو ایک “وفادار ساتھی” قرار دیا۔ دونوں رہنماؤں کے گلے ملنے کے مناظر پوری دنیا نے دیکھے۔
یہ لمحہ ایک نئے آغاز کی علامت سمجھا گیا۔ بھارتی عوام کے لئے یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ بھارت نے آخرکار عالمی طاقتوں کی صف میں اپنی جگہ بنالی ہے، اور امریکہ اس کا قریبی اتحادی ہے۔
لیکن پانچ سال بعد منظر یکسر بدل چکا ہے۔ اگست 2025 میں، دوبارہ صدر بننے والے ٹرمپ نے ایک بڑا فیصلہ کیا: بھارتی برآمدات پر 50 فیصد محصولات۔ ان برآمدات کی مالیت تقریباً 60 ارب ڈالر سالانہ تھی۔ ٹیکسٹائل، ہیرے، جھینگا اور دیگر شعبے جو امریکی طلب پر چلتے تھے، اچانک بحران کا شکار ہوگئے۔ جوش و خروش کی جگہ اب دھوکے اور زخم کا احساس ہے۔
2020 کا وعدہ
احمد آباد کی ریلی محض سیاست نہیں تھی، بلکہ ایک سوچا سمجھا مظاہرہ تھا۔ شہر کو سجایا گیا، ثقافتی پروگرام ہوئے، اور یہ تاثر دیا گیا کہ بھارت اور امریکہ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہیں۔
مودی نے امریکہ کو سب سے قابلِ اعتماد ساتھی قرار دیا، اور ٹرمپ نے بھی بھارت کو سچا دوست کہا۔ عوام نے اسے فخر کا لمحہ سمجھا۔ مگر آج وہ گرمجوش الفاظ کھوکھلے لگتے ہیں۔
2025 کا محصولاتی جھٹکا
50 فیصد محصولات کا اعلان بجلی کی کوند کی طرح تھا۔ بھارتی مصنوعات اچانک امریکہ میں بہت مہنگی ہوگئیں۔ دس ڈالر کی شرٹ اب پندرہ ڈالر کی ہوگئی، صرف اس لئے کہ سرحد پر محصول لگا۔ نتیجہ یہ کہ خریداروں نے متبادل تلاش کرنا شروع کردیا۔
سورَت، تِرُپور اور لدھیانہ کے کپڑا مراکز شدید متاثر ہوئے۔ دنیا کے 90 فیصد کچے ہیرے تراشنے والا سورَت کا شعبہ ڈوبنے لگا۔ آندھرا پردیش اور تامل ناڈو کے جھینگا ایکسپورٹرز بھی بڑے بحران میں ہیں۔ کنپور کے چمڑے کے کاریگر اور جے پور کے ہنرمند بھی خریداروں سے محروم ہوگئے۔
معاشی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ معیشت کی شرح نمو میں اس سال نصف فیصد کمی آسکتی ہے۔
ٹرمپ کے الفاظ: محبت سے الزام تک
محصولات کافی نقصان دہ تھے، مگر ٹرمپ کی زبان نے زخم اور گہرا کردیا۔ انہوں نے بھارت پر روسی تیل خرید کر جنگ کو سہارا دینے کا الزام لگایا۔ پیٹر نیوارو نے تو اسے “مودی کی جنگ” تک کہا۔
مزید برآں، ٹرمپ نے بار بار دعویٰ کیا کہ انہوں نے بھارت-پاکستان جنگ کو روکنے کے لئے محصولات کی دھمکی دی اور مودی کو جنگ بندی پر مجبور کیا۔ بھارت نے ان دعوؤں کو رد کردیا۔
کبھی ٹرمپ مودی کو “عظیم آدمی” کہتے ہیں، تو کبھی سخت فیصلوں کا جواز دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ پہلے کی گرمجوشی اب بدگمانی میں بدل گئی ہے۔
چین سے مختلف صورتحال
یہ منظر امریکہ-چین تجارتی جنگ (2018–2020) سے ملتا جلتا لگتا ہے، مگر فرق نمایاں ہے۔ چین ایک بڑی معاشی طاقت تھا، جو جوابی کارروائی کر سکتا تھا۔ مگر بھارت زیادہ کمزور ہے۔ اس کی 86 ارب ڈالر کی برآمدات میں سے 70 فیصد اب خطرے میں ہیں۔
چین کو اس کی طاقت کی وجہ سے سزا دی گئی۔ بھارت کو اس کے باوجود سزا دی جا رہی ہے کہ وہ امریکہ کا اتحادی ہے۔
اتحادی کے طور پر بھارت کی مشکل
امریکہ کی انڈو-پیسفک حکمت عملی میں بھارت کو کلیدی حیثیت حاصل رہی ہے۔ مگر اب یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا واقعی بھارت کو اسٹریٹجک اتحادی سمجھا جاتا ہے، یا محض ایک موقع پرست آلہ؟
بھارت روسی تیل خریدنے پر مجبور ہے، لیکن واشنگٹن میں اسے غداری کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ امریکہ کے ساتھ تعلق زیادہ تر لین دین کی طرح ہیں: ساتھ دو تو تعریف، آزاد فیصلے کرو تو سزا۔
بھارت کا ردِ عمل
بھارت خاموش نہیں بیٹھا۔ دہلی نے واشنگٹن میں لابنگ شروع کی ہے۔ ساتھ ہی یورپ، مشرقِ وسطیٰ، آسیان اور افریقہ میں نئے خریدار تلاش کیے جا رہے ہیں۔
حکومت نے امدادی پیکج بھی دئیے ہیں: ہیرے کے کاریگروں کو سبسڈی، جھینگا کاشتکاروں کے لئے چھوٹ، اور چھوٹے ایکسپورٹرز کے لئے بیمہ۔
ماہرین کہتے ہیں کہ طویل المدتی حل یہ ہے کہ بھارت کم قیمت برآمدات کے بجائے الیکٹرانکس، سیمی کنڈکٹرز اور سبز ٹیکنالوجی کی طرف بڑھے۔
کچھ جدتیں بھی نظر آ رہی ہیں: سورَت کی اسٹارٹ اپس بلاک چین پر مبنی ہیروں کی ٹریس ایبلٹی پر کام کر رہی ہیں، اور جھینگا برآمد کرنے والے یورپ میں آن لائن خریداروں تک براہِ راست رسائی حاصل کر رہے ہیں۔
دھوکے سے خود انحصاری تک
نمستے ٹرمپ (2020) سے 50 فیصد محصولات (2025) تک کا سفر ایک سبق ہے: عالمی سیاست میں دوستیاں کمزور ہیں، مفاد سب سے بڑھ کر ہے۔
بھارت کے لئے راستہ یہ ہے کہ کسی ایک ملک پر انحصار کم کرے، اعلیٰ معیار کی برآمدات پر زور دے، اور اپنی ٹیکنالوجی و صنعت کو خودکفیل بنائے۔
پیٹھ میں خنجر زخم دیتا ہے، مگر یہی آغاز بھی بن سکتا ہے: ایک ایسا بھارت جو زیادہ مضبوط، خودمختار اور پراعتماد ہو۔ سبق واضح ہے: آتم نربھر بھارت (خود انحصار بھارت) محض نعرہ نہیں، بلکہ وقت کی ضرورت ہے۔
