کینیڈا کے وزیر دفاع نے اعلان کیا کہ ان کا ملک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے میں شامل ہونے کے لیے تیار ہے، جو ایک جدید میزائل دفاعی نظام بنانے کے لیے “آئرن ڈوم” جیسی ٹیکنالوجی پر مبنی ہوگا۔ اگرچہ اوٹاوا اور واشنگٹن کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں، پھر بھی کینیڈا نے امریکا کے ساتھ دفاعی تعاون کو اہم قرار دیا ہے۔ اس منصوبے کی لاگت پر تنقید کی جا رہی ہے، خاص طور پر جب دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تنازعات بھی جاری ہیں۔
BulletsIn
- کینیڈا کے وزیر دفاع بِل بلیئر نے کہا کہ ان کا ملک امریکا کے ساتھ مشترکہ دفاع میں اہم شراکت دار ہے۔
- کینیڈا نیٹو اور نوراد کے ذریعے امریکا کے ساتھ فضائی دفاع میں شراکت دار ہے۔
- امریکا پورے شمالی امریکا کے لیے مربوط میزائل دفاعی نظام بنانا چاہتا ہے۔
- ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے امریکی میزائل دفاعی منصوبے کی منصوبہ بندی کا حکم دیا۔
- یہ منصوبہ اسرائیل کے “آئرن ڈوم” کے طرز پر ہوگا، جو غزہ اور حزب اللہ کے حملوں کے خلاف استعمال ہوا۔
- وزیر دفاع نے کہا کہ یہ نظام بیلسٹک، ہائپرسونک اور جدید کروز میزائلوں کو روکنے کے لیے تیار کیا جائے گا۔
- منصوبے میں خلا میں نصب میزائل انٹرسپٹرز کی ترقی پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
- ٹرمپ نے 2024 کی انتخابی مہم میں امریکا کے لیے “آئرن ڈوم” جیسا دفاعی نظام بنانے کا وعدہ دہرایا۔
- اس منصوبے کی ممکنہ زیادہ لاگت پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
- ٹرمپ نے کینیڈا پر 25 فیصد درآمدی ٹیرف لگانے کی دھمکی دی، جو فی الحال معطل ہے۔
- ٹرمپ نے کینیڈا کو “امریکا کی 51ویں ریاست” بنانے کی تجویز بھی دی، جس سے دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید تناؤ پیدا ہوا ہے۔
